22

سائنس دانوں نے دس لاکھ سال پرانےہاتھی کا ڈی این اے کھو ج لیا

ویب ڈیسک : بین الاقوامی جینیات دانوں کی ٹیم نے کئی برس کی محنت سے دنیا کے قدیم ترین میمتھ (ہاتھی ) کے ڈی این اے کو نکالا ہے اور ڈی این اے کے کئی ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک مکمل جینیاتی سلسلہ (سیکوینس)مرتب کیا ہے۔

بارہ سے سات لاکھ سال قبل روس کے علاقے سائبیریا میں گھومنے پھرنے والے بالوں سے بھرے قدیم ہاتھیوں کے دانتوں سے یہ ڈی این اے نکالا گیا ہے۔ ان سب میں ڈی این اے کے نامکمل ٹکڑے تھے، تاہم بعد میں انہی سے ایک مکمل ڈی این اے مرتب کیا گیا ہے۔اس سے قبل ایک گھوڑے سے اخذ کردہ ڈی این اے کو قدیم قرار دیا گیا تھا جو قریباً ساڑھے پانچ سے سات لاکھ اسی ہزار سال پہلےاس زمین پر موجود تھا ۔

انٹرنیشنل جریدے ‘نیچر’ کے مطا بق سویڈن میں قدیم جینیات کے ماہر لوَڈالین کہتے ہیں کہ یہ بہت پرانا ڈی این اے ہے۔ بالوں بھرے اصلی میمتھ درحقیقت آٹھ لاکھ سال قبل نمودار ہوئے تھے اور آخرکار اب سے چار ہزار سال قبل صفحہ ہستی سے مِٹ گئے تھے۔تحقیقی ٹیم نے سات لاکھ سال کے ایک اور دس لاکھ سال کے دو میمتھ کے دانتوں سے ڈی این اے نکالا اور ان کے ٹکڑوں کو جوڑنے کا کام شروع کیا ۔ یہ تمام جانور مستقل برف میں دبےرہے تھے اور اسی وجہ سے ان کے دانتوں کی جڑ میں گوشت اور خون محفوظ رہ گیا تھا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ سائبیریا میں ایک قسم کے میمتھ نہیں بلکہ کم ازکم دو اقسام کے میمتھ زندگی گزاررہے تھے۔ اس طرح اب میمتھ کی دو طرح کی جینیاتی سلسلے ہمارے سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ آخر کسطرح میمتھ ایک مقام سے دوسرے مقام اور براعظم تک پہنچے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں