96 سالہ خاتون پر 11 ہزار افراد کو قتل کرنے کا الزام

برلن (ویب ڈیسک) شمالی جرمنی میں ایک 96 سالہ خاتون کو عدالت میں کیس کا سامنا ہے ،تاہم خاتون نے عدالت کا سامنا کرنے کے بجائے مفرور ہونے کا فیصلہ کیا، جنہیں بعدازاں گرفتار کر لیا گیا.

مذکورہ خاتون نے دوسری جنگ عظیم کے دوران سن 1943 سے 1945 تک ڈیتھ کیمپ میں بطور سیکرٹری کام کیا تھا۔ اور ان پر 11 ہزار افراد کے قتل میں مدد کرنے کا الزام ہے۔ اس حوالے سے عدالت میں خاتون کے خلاف مقدمہ بھی چل رہا ہے .

ارمگارڈ فرچنر نامی اس خاتون نے طویل عرصے تک مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت آنے سے گریز کیا۔ اس کے لیے ان کے وکیل نے خاتون کی عمر کا بھی حوالہ دیا۔ تاہم عدالت نے خاتون کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ لیکن خاتون عدالت آنے کے بجائے ٹیکسی پکڑ کر بھاگ گئی۔ یروشلم میں سائمن ویسنتھل سنٹر کے سربراہ افرائیم جوروف نے کہا ، ‘اگر وہ بھاگنے کے لیے صحت مند ہے تو وہ قید کے لیے بھی صحت مند ہے۔’

واضح رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران 1939 سے 1945 تک ہزاروں افراد نازی کیمپ میں مارے گئے۔ اس وقت ارمگارڈ کی عمر 18 سال تھی ، وہ ایسے ہی ایک کیمپ کی سیکرٹری تھیں۔ لہٰذا ، ان کا مقدمہ جویوینائل کورٹ میں چلا، میٹرو یوکے کی ایک رپورٹ کے مطابق ، دفاعی وکیل نے کہا کہ مقدمے پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ آیا 96 سالہ خاتون اس وقت کیمپ میں ہونے والے مظالم سے آگاہ تھی.

واضح رہے کہ اگر اس خاتون کے خلاف عدالتی کارروائی ہوتی ہے تو، جرمنی میں نازی دور کے جرائم کا یہ آخری مقدمہ ہو سکتا ہے۔عدالت اس مقدمے کی سماعت پہلے ہی آئندہ 19 اکتوبر تک ملتوی کر چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں