آپ ﷺ تلوارکےذریعےنہیں،فکری انقلاب لائے

اسلام آباد(پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ہمیں عظیم قوم بننا ہے تو اسلامی اصولوں پر چلنا ہوگا، انصاف ہمیشہ کمزور کو چاہیے ہوتا ہے، طاقتور خود کو قانون سے اوپر سمجھتا ہےجب تک زندہ ہوں رول آف لا کے لیے لڑتا رہونگا.

وزیراعظم عمران خان نے قومی رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا آپؐ دنیا میں تلوار کے ذریعےنہیں، اپنی سوچ سے انقلاب لائے، ریاست مدینہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہر معاشرے کیلئے مثالی نمونہ بنی، ملک اخلاقیات اور انصاف کی وجہ سے ترقی کرتے ہیں، قانون کی بالا دستی کو قائم کرنا ہمارا بنیادی مقصد ہے،انصاف ہمیشہ کمزور کو چاہیے ہوتا ہے، طاقتور خود کو قانون سے اوپر سمجھتا ہے، مدینہ کی ریاست کی بنیاد بھی یہی تھی کہ قانون کی بالا دستی اور اخلاقیات تھیں ، مدینہ کی ریاست نے لوگوں کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا تھا ، انصاف اور قانون کی وجہ سے قوم کھڑی ہو جاتی ہے.

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو فتح کرنا آسان تھا کیونکہ یہاں پر قانون کی بالا دستی نہیں تھی بلکہ جاگیر دارانہ نظام تھا ، مدینہ کی ریاست میں میرٹ تھا، ریاست مدینہ میں جوجنرل اچھاکام کرتاتھاوہ اوپرآتاتھا،، مدینہ کی ریاست نے لیڈر پیدا کیے ، سارے صحابہ کرامؓ لیڈر بن گئے، لیڈر کو صادق و امین ہونا چاہیے، عزت تب ہوتی ہے جب لیڈر صادق و امین ہو ، اس کے بغیر عزت نہیں ہو سکتی.

ان کا کہنا تھا کہ نبی اکرم ﷺنےغلاموں اورخواتین کوجو حقوق دیئے،تاقیامت کوئی نہیں دےسکتا، حضوراکرمﷺنےخواتین ،بیواوَں اورغلاموں کوحقوق دیئے.

وزیراعظم نے کہاپاناماکیس میں کیابتاوَں ،کس طرح کےجھوٹ بولےگئے، کیس برطانوی عدالت میں ہوتاتوان کواسی وقت جیل میں ڈال دیاجاتا، برطانوی جمہوریت میں ووٹ بکنےکاتصوربھی نہیں کیاجاسکتا،یہاں سب کوپتہ ہےکہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ چلتاہے.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرا پاکستان سے باہر رہنے والوں سے واسطہ رہا ہے، اوورسیز پاکستانی جب واپس آتے تھے تو انکے ساتھ فراڈ ہوتا تھا، سوچیں 90 لاکھ پاکستانی باہر بیٹھا ہے ، اگر تیس چالیس ہزار بھی پیسہ بھیجیں تو ملک ترقی کر جائے. عمران خان نے کہا ہٹلر کی فوجیں جب برطانیہ آنے لگی تھیں تو ونسٹل چرچل کے پاس لوگ آئے اور کہا کیا ہم بچ جائیں گے ، تو چرچل نے کہا کیا ہماری عدالتیں انصاف دے رہی ہیں ، جرمنی اور جاپان تباہ ہوا لیکن دونوں قومیں دس سال میں کھڑی ہو گئی، آج بیروت اور لبنان کو فیل سٹیٹ کہا جا رہا ہے، لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہماری حکومت کرپٹ ہے۔

وزیراعظم نے کہا ترقی پذیر ممالک میں جب تک انصاف کا نظام قائم نہیں ہوگا ، خوشحالی نہیں آئے گی، ہمارے ہاں نوجوانوں کا راستہ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، اللہ نے مجھے سب کچھ دیا ہے، ہم بچپن میں کہانیاں سنتے تھے جب ہمارے ماں باپ بتاتے تھے کہ غلامی کیا ہوتی ہے، ہم نے ملک کو اوپر جاتے اور پھر نیچے جاتے دیکھا، ہم اب سفر شروع کرنے لگے ہیں، مجھے قادری صاحب نے کہا کہ جب میں لوگوں کو کہتا ہوں کہ وزیراعظم مدینہ کی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو وہ کہتے ہیں خود تو سارے مزے کر گیا اور اب ہمیں مدینہ کی ریاست پر لگا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں