مدینے والے کا کچھ چھپا نہیں ہوتا تھا، توشہ خانہ کا حساب دیں

اسلام آباد(پبلک نیوز) سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جب عوام کی مشکلات بڑھتی جائیں تو عوام کس امید پر چلیں؟ تین سال اس حکومت نے عوام کو امیدیں دلائیں، اب لوگوں کی ہمت اور سکت جواب دے گئی ہے.

قمر الزمان کائرہ نے کہا نبی الکریم ﷺ کی ذات پر نسلیں قربان ہیں، اس سے پہلے بھی حکمرانوں نے دین کے نام پر عوام کے غیض و غضب کو دبانے کی کوشش کی،جوں جوں وقت گزر رہا ہے عوام کی زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے، اپوزیشن کی عوام سے گزارش ہے کہ باہر نکلیں، اللہ کرے تمام پارٹیاں اور ادارے آئین پاکستان کے تحت ایک پیج پر اکھٹے ہو جائیں، پی ڈی ایم کو ختم کرنے کے لیے جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ غلط تھا، پیپلز پارٹی نے اختلاف کیا، اپوزیشن کی ایک مشترکہ حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے.

قمر الزمان کائرہ نے کہا پیپلز پارٹی کسی انگلی کے اٹھنے کا انتظار نہیں کرتی، آئین پاکستان کے تحت وزیراعظم کا اختیار ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کریں، کیا نیب چئیرمین کو لگانے کے لیے وزیراعظم نے سمری بنائی تھی؟ حکومت ہر ہفتے ایک نیا مسئلہ لے کر آ جاتی ہے، ساری قوم منتظر ہےخان صاحب کو توشہ خانہ سے متعلق تفصیلات دیں، مدینے والے کا تو کچھ چھپا نہیں ہوتا تھا، خان صاحب آپ کو جرنیل تبدیل کرنے سے متعلق باتیں بہت یاد آتی ہیں حساب بھی دیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں