”دھند بہت تھی، پتہ نہیں چلا ڈسکہ کدھر ہے اور بکسہ کدھر“

ڈسکہ (پبلک نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ووٹ چوروں نے ظلم کیا ہے۔ جاں بحق کارکن کےلواحقین سے اظہارتعزیت کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا یہ سیٹ کی خاطرجانیں لیں گے تومفت میں سیٹ دے دیتے۔ یہ سیٹ نوازشریف کی جان کے صدقے میں دے دیتی۔

ضمنی الیکشن کے بعد ڈسکہ دورہ کے موقع پر عوامی خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ان کوظلم کاحساب دنیااورآخرت میں بھی دیناپڑے گا۔ ووٹ کی رکھوالی کرنے والے بہادروں کوسلام۔ انہوں نے پولنگ کوسلوکروادیا۔ شیرکوووٹ دینے والوں کی لائنیں لگی تھیں۔ انہوں نے فائرنگ کےبہانے پولنگ اسٹیشنز کےدروازے بندکردیئے۔ تین ،تین ،چار،چارگھنٹے دروازے بندرہے۔ شیرو ں نے کہادروازہ کھولو ہم نے ووٹ ڈالناہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈسکہ والومسلم لیگ ن کی فتح مبارک ہو۔ میرے ساتھ نوشین افتخار جیتی ہوئی امیدوارکھڑی ہے۔ نوشین افتخارنے ووٹ چوروں کابہادری سے مقابلہ کیا۔ فائرنگ کےبعد ان کوسمجھ نہیں آئی کیاکریں۔ یہ ووٹوں کے تھیلے اٹھاکربھاگ رہے تھے۔ مسلم لیگ ن کے شیرجاگ رہے تھے۔ 2018میں عوام نے دھوکاکھالیا،اب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شیروں نے ان کوبھاگتے ہوئے پیچھے سے پکڑا۔ شیروں نے کہااب بھاگنے نہیں دیں گے۔ رینجرزنے سب کچھ دیکھا۔ ووٹ چورعمران خان کی عقل کوسلام کرتی ہوں۔ ووٹ چورعمران خان کی سیاستی بصیرت کوسلام کرتی ہوں۔

ڈسکہ میں خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ یہ وارداتیے ہیں۔ اب وارداتیے پکڑے گئے ہیں۔ وارداتیوں کو ڈسکہ کی عوام نے رنگے ہاتھوں پکڑا۔ وچوں،وچوں ووٹ چوری کری جاؤ،اتوں رولاپائی جاؤ۔ چور،چورکاشورمچانے والو عوام کوپتہ چل گیااصل چورکون ہے۔ عوام نے چورپکڑبھی لیے ہیں۔ انہوں نے بجلی،گیس،چینی،آٹا،ووٹ چوری کیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کاعملہ بھی چوری کرلیا۔ کیاکبھی سناتھا الیکشن کمیشن کاعملہ چوری ہوجائے؟

مریم نواز کا کہنا تھا کہ 14گھنٹے بعدباجماعت صبح 6بجےعملہ حاضرہوا۔ پوچھاگیاکدھرسے آئے ہوکوئی جواب نہیں۔ بیلٹ باکس خالی تھے،کہتے تھیلوں میں بھیج دیئے ہیں۔ ترجمانوں کی جھوٹی فوج بنائی ہوئی ہے۔ ترجمانوں کی جھوٹی فوج بھی پریشان ہے۔ بہانہ بنالیادھندبہت تھی۔

ن لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ سن لوعمران خان لوگ کہتے ہیں، سب پھڑے جان گئے۔ میں کہتی ہوں سب پکڑے گئے ہیں۔ ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن ہوناچاہئے۔ دھند بھی بڑی سمجھ دارہے سوچ کرآتی ہے کدھرجاناہے۔ دھند بہت تھی پتہ نہیں چلا ڈسکہ کدھر اوربکسہ کدھر۔ دھندمیں الیکشن کمیشن کے20آفیسربھی گم ۔ ایسی دھندپڑی یہ ابھی تک گم ہیں۔ لوگ ابھی تک ان کوڈھونڈرہے ہیں۔

اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پبلک سب جانتی ہے۔ کیا دھند میں موبائل فون بھی بندہوجاتےہیں؟ تاریخ کی پہلی دھندپڑی کہ موبائل فون بندہوگئے۔ چیف سیکریٹری صاحب بھی فون بندکرکےسوگئے۔ انہوں نے 2018میں نوازشریف کوانتخابات سےباہررکھا۔ انہوں نے مجھے اورنوازشریف کوجیل میں رکھا۔ ایساسب کچھ کرنے کےباوجودنوازشریف الیکشن جیت گیاہے۔

نائب صدر ن لیگ نے کہا کہ بڑی باتیں کرتے تھے، بیانیہ، بانیہ۔  پورے پاکستان میں نوازشریف کابیانیہ گونج رہاہے۔ یہ ضمنی الیکشن میں سیٹوں پرنظریں جمائے بیٹھے تھے۔ نوازشریف نے تمہیں تمہارے گھرمیں گھس کے ماراہے۔ ووٹ چوروں کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی الیکشن کرایاجائے۔ گرفتار کارکنوں کوفی الفور رہا کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں