’فروری تک مزید 5 لاکھ افراد کورونا سے مر سکتے ہیں‘

ویب‌ڈیسک:‌ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ یورپ اور وسطی ایشیا میں دوبارہ کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن خطرناک خبر یہ ہے کہ یکم فروری سے پہلے ان خطوں میں تقریباً نصف ملین اموات کا خدشہ ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق گزشتہ چار ہفتوں کے دوران خطے میں نئے کورونا کیسز میں 55 فیصد اضافہ دیکھا گیاہےجو کہ عالمی کیسز کا 59 فیصد ہے. رپورٹ ہونے والی اموات میں بھی بیشتر کا تعلق یورپ اور وسطی ایشیاسے ہے.ڈبلیو ایچ او کے یورپی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ہانس کلوگ نے ​​اس کی وجہ لوگوں کی لاپرواہی، ماسک نہ لگانا اور ویکسین نہ ملنے کو قرار دیا۔ اس کے علاوہ کلوگ نے کورونا کے نئے کیسز میں اضافے کی وجہ سردیوں کے موسم کو بھی قرار دیا۔ اس کے علاوہ بند جگہوں پر لوگوں کا جمع ہونا اور ڈیلٹا ویریئنٹس کو بھی نئے کیسز میں اضافے کی وجہ قرار دیا گیا۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس خطے میں تقریباً ایک ارب ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں، لیکن اس خطے میں صرف 47 فیصد لوگوں کو ہی مکمل ویکسین دی گئی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے یورپی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ہانس کلوگ کا کہنا تھا کہ اگر یورپ اور وسطی ایشیا میں 95 فیصد لوگ ماسک پہنیں تو وہ فروری 2022 سے پہلے اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے نصف ملین میں سے 188,000 کو بچا سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی ٹیم کی ڈاکٹر کیتھرین سمال ووڈ نے کہا کہ یقیناً، یورپ ایک براعظم کے طور پر بہت زیادہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، شاید دوسرے خطوں کے مقابلے میں، اور یہ بھی وبائی مرض کی نشوونما کا ایک عنصر ہو سکتا ہے۔ سمال ووڈ نے کہا، اس وقت پورے خطے میں بہت ساری حاملہ خواتین کورونا وائرس کے ساتھ اسپتال میں داخل ہیں۔ ماہرین کو کووڈ-19 ویکسینیشن کے فوائد اور خطرات کی وضاحت کرنے کے لیے مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈیلٹا ویرینٹ کا پھیلاؤ اس خطے میں سب سے زیادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں