22

” پولیس کو دھمکیاں دینا گورنر کے منصب کو زیب نہیں دیتا“

کراچی (پبلک نیوز) ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ پولیس کو دھمکیاں دینا گورنر کے منصب کو زیب نہیں دیتا۔ آئی جی پولیس نے انہیں کہہ دیا کہ کسی پولیس افسر سے بھی انکوائری کروا لیں۔

انھوں نے کہا کہ وزیر ٹوئٹر علی زیدی نے بھی دھمکی آمیز ٹویٹ کیا۔ یہ پی ایس ایل کے میچز دیکھتے ہوئے بھی سب کچھ دیکھ لیتے ہیں۔ علی زیدی ٹوئیٹ کرتے ہیں کہ جیل میں حلیم عادل شیخ سے بات کی ہے۔ کیا یہ خلاف قانون نہیں کہ وہ کسی قیدی سے فون پر بات کرسکتے ہیں۔

خدارا یہ ڈرامہ کرنا چھوڑیں۔ پولیس کو اپنا کام کرنے دیں۔ چالان جمع ہوگا اسکا فیصلہ عدالت کرے گی۔ عدالتی معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔ یہ سب کیس پر اثر انداز ہونے کے لئے کیا جارہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے حکم پر حلیم عادل شیخ کو حلقے سے باہر نکالا۔ الیکشن کمیشن نے خود لکھا کہ حلیم عادل شیخ کار ریلی کی شکل میں ہتھیار سے لیس ہوکر گھوم رہا ہے۔ یہ خط ایس ایس پی ملیر کو لکھا گیا۔

پریس کانفرنس کے دوران بیرسٹر مرتضی وہاب نے ضمنی الیکشن کے روز پی ٹی آئی کے اسلحہ برادر افراد کی تصاویر بھی دکھائیں۔ انھوں نے بتایا کہ میڈیا پر فائرنگ کی فوٹیجز آن ائیر ہوئی ہیں۔ کیا پولیس خاموش ہوجائے گی؟ پولیس نے کارروائی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس ریمانڈ لینے گئی تو معزز عدالت نے ریمانڈ دیا۔ حلیم عادل شیخ ایک ایف آئی آر میں نامزد ملزم ہے۔ پولیس کا رویہ انکے ساتھ انتہائی مہذب ہے۔ پولیس جانبدار ہوتی تو کیا حلیم عادل شیخ سے لوگوں کو ملنے دیتی۔ دس لوگ ان سے ملنے جارہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پھر الزام لگایا کہ تھانے میں کوبرا آگیا۔ جس دن یہ وقوعہ پیش آیا تو وزیراعلی سندھ سمیت کابینہ کے ارکان نے اس کی مذمت کی۔ چار فٹ کے سانپ کو حلیم عادل شیخ نے فورا مار دیا۔ اس کی تحقیقات بھی ضروری ہیں کہ سانپ خود آیا یا لایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا کسی پولیس افسر نے سانپ چھوڑا یا کوئی ملنے والا لیکر آیا۔ پولیس نے لوگوں کے بیگز چیک نہیں کئے۔ دس افراد انیس اور بیس فروری کی درمیانی شب ملنے آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں