ارجنٹائن کی خاتون نے علاج کے بغیر ایڈز کو شکست دیدی

بیونس آئرس: (ویب ڈیسک) ارجنٹائن کی ایک خاتون بغیر علاج کے ایڈز جیسے موذی مرض کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا دوسرا کیس ہے۔ اس سے قبل امریکہ میں، سان فرانسسکو کی لارین والنبرگ اپنے مدافعتی نظام کی طاقت کے ذریعے ایچ آئی وی سے ٹھیک ہو چکی ہیں۔

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ مریضہ کے مدافعتی نظام نے خود ہی وائرس پر قابو پا لیا اور اس سے مستقل طور پر چھٹکارا حاصل کر لیا۔ طبی رپورٹس کے مطابق خاتون کے جسم میں ایک ارب سے زائد خلیوں پر کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ اس میں وائرس کے انفیکشن کا کوئی نشان نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس عمل کو بروئے کار لایا جائے تو ہم ایچ آئی وی کو ختم کرنے یا اس کا موثر علاج بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ نتائج اس بات کا مزید ثبوت ہیں کہ ایچ آئی وی سے نمٹنے کے لیے بہت کم لوگ قدرتی لچک کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔

کچھ انسانوں میں ایسے جینز بھی ہوتے ہیں جو انفیکشن کو روکتے ہیں۔ لیکن ایچ آئی وی سے متاثرہ زیادہ تر لوگوں کو زندگی بھر اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وہ ان دوائیوں کو لینا بند کر دیتے ہیں تو غیر فعال وائرس دوبارہ متحرک ہو سکتا ہے اور نئی پریشانیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

خیال رہے کہ لندن سے تعلق رکھنے والے ایڈم کاسٹیلیگو نے کینسر کی رسولی کے علاج کے لیے ایک ڈونر سے سٹیم سیل کا علاج کروانے کے بعد ایڈز کی روزانہ کی دوائیں لینا بند کر دیں جس کے ایڈز سے نجات میں مثبت اثرات مرتب ہوئے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریض کاسٹیلیگو وائرس سے مکمل طور پر ٹھیک ہو گیا تھا، اور کینسر کے علاج کے دوران اس کے ایڈز سے متاثرہ خلیات کو ختم کر کے تبدیل کر دیا گیا تھا۔

خوش قسمتی سے، سٹیم سیل کا عطیہ دہندہ انتہائی نایاب زمرے میں آتا ہے جن میں سے 1 فیصد لوگوں میں سے صرف ایک ایسے جین کے ساتھ پیدا ہوتا ہے جو ایچ آئی وی کو انسانی خلیوں میں داخل ہونے اور متاثر ہونے سے روکتا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ یہ فائدہ مریض میں کب تک جاری رہ سکتا ہے اور آیا وہ دوبارہ انفیکشن کا شکار ہوگا۔

امریکہ میں میساچوسٹس جنرل ہسپتال، ایم آئی ٹی اور ہارورڈ کے ریگن انسٹی ٹیوٹ کے سرکردہ محقق ڈاکٹر زویو نے کہا، “ایسے لوگوں کے لیے سیل کلینزنگ تھراپی حاصل کرنے کا ایک عملی راستہ ہو سکتا ہے جو خود اسے نہیں کر پاتے۔”

انہوں نے مزید کہا، “اب ہم اینٹی وائرل علاج حاصل کرنے والے لوگوں میں اس قسم کی قوت مدافعت کو فروغ دینے کے امکان کو دیکھ رہے ہیں، ویکسینیشن کے ذریعے، جس کا مقصد ان کے مدافعتی نظام کو فروغ دینا ہے تاکہ اینٹی وائرل علاج کے بغیر وائرس پر قابو پایا جا سکے۔”

آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر جان فریٹر نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ اگرچہ یہ طے کرنا تقریباً ناممکن تھا کہ آیا کوئی شخص واقعی ایچ آئی وی سے ٹھیک ہوا ہے، لیکن محققین نے اسے ثابت کرنے کے لیے “موجودہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر وہ کام کیا جو ان سے پوچھا جا سکتا تھا”۔

انہوں نے کہا کہ “بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس مریض نے حقیقت میں خود کو ٹھیک کیا ہے یا وہ کسی کمزور انفیکشن میں مبتلا تھا، جس نے نشوونما پانے کی کوشش کی لیکن جلد ہی اس سے نمٹا گیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ارجنٹائن کی مریضہ کا مدافعتی نظام واضح طور پر اس کی پیتھولوجیکل میموری اور انفیکشن کو ظاہر کرتا ہے، “اور اس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ واقعتاً متاثر تھی۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں