سنار آپ کو کیسے لوٹتے ہیں؟ اس سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

لاہور: (پبلک نیوز) زیور بنواتے اور خریدتے وقت سب سے بڑا فراڈ کیا ہوتا ہے؟ پالش کے نام پر سنار کس طرح خریدار کی کھال اتارتے ہیں؟ سونے کی کٹوتی کے نام پر کتنا چونا لگاتے ہیں؟ کیا زیور بناتے وقت سونا ضائع ہونے کا سنار کا بہانہ درست ہے؟

سونا فروخت کرنے سے پہلے کون سا کام کرنے سے آپ کے فی تولہ ہزاروں روپے بچ جائیں گے؟ زیور بنوانے سے پہلے ہی سنار کو دھوکا دینے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ سنار آخر کیوں اپنی مزدوری چھوڑ دیتے ہیں؟ قیراط کیا ہوتا ہے ؟ اس کے متعلق نہ جاننے سے آپ کو کتنا نقصان ہوسکتا ہے؟ یہ اور ان جیسے بہت سے سوالوں کے جواب اس تحریر میں موجود ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ ایک تولہ سونے میں 11.664 گرام یا 12 ماشے ہوتے ہیں۔ اگر آپ ایک تولہ زیور اسی سنار کو فروخت کرنے گئے ہیں جس سے یہ بنوایا تھا تو وہ 2 ماشے کٹوتی کرتا ہے۔ اور اگر آپ کسی اور سنار کے ہتھے چڑھ گئے تو وہ 3 ماشے سونا کاٹ لے گا۔

سنار صاحب اپنے اس داؤ کو نام دیں گے ایک رتی ماشہ یا 2 رتی ماشے کا۔ یوں ایک تولہ سونے کا زیور فروخت کرنے پر آپ کے 2 سے تین ماشے سنار نے مار لیے اور وہ بھی آپ کی آنکھوں کےسامنے۔ اگر ایک ماشے کی قیمت 10 ہزار بھی لگائی جائے تو پتہ ہے آپ کو بیٹھے بٹھائے کتنا نقصان ہوگیا؟ 20 سے 30 ہزار روپے۔

یاد رہے بات صرف ایک تولہ سونے کے زیور کی ہو رہی ہے۔ اور اگر زیور بیچنا نہیں بلکہ بنوانا ہو تو؟اس میں بھی سنار ایسے کھال اتارے گا کہ کیا قصائی اتارتے ہوں گے۔ مگر یہ سب جاننے اور اس فراڈ سے بچنے کے لیے آپ کو قیراط کے بارے میں جاننا ہوگا۔


قیراط یا کیرٹ وہ پیمانہ یا معیار ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ سونا کتنا خالص ہے؟ 24 قیراط سونا وہ ہوتا ہے جو 99.99 فیصد خالص ہو۔ قیراط 24 سے جتنے کم ہوتے جائیں گے اس کا مطلب ہے اتنا ہی سونا، ناخالص ہے۔ یعنی اس میں اتنی ہی ملاوٹ یا سنار کی زبان میں کہیں تو کھوٹ ہے۔

12 قیراط کا مطلب ہے 50 فیصد ملاوٹ اور 18 قیراط کا مطلب ہے کہ سونا 75 فیصد خالص ہے اور اس میں 25 فیصد ملاوٹ یا کھوٹ ہے۔ اس کے علاوہ ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھروں کا وزن عام طور پر قیراط میں کیا جاتا ہے۔ اب اسی سوال پر آجاتے ہیں کہ سونے کا زیور بنوانے یا خریدنے پر آپ کے ساتھ کیا ہاتھ ہوتا ہے؟ پاکستان میں صرف چند ایک بڑے جیولرز ہی ایسے ہیں جن کے پاس 21 قیراط سے زیادہ سونے کا زیور بنانے کی مشینیں ہیں۔ رہی بات 22 قیراط کی تو اس سونے کا زیور بنانے کی ٹیکنالوجی صرف اور صرف کراچی میں ایک 2 جیولرز ہی کے پاس ہے۔

سنار عام طور پر 15 یا 18 قیراط سونے کا زیور بنا کر دیتے ہیں۔ 18 قیراط کا مطلب ہے کہ اس زیور میں 75 فیصد سونا اور 25 فیصد ملاوٹ ہے۔ اگر ایک تولہ سونا ایک لاکھ کا لگائیں تو سنار نے 75 ہزار کا سونا دے کر پیسے لیے ہیں، پورے ایک لاکھ۔ یعنی آپ کے 25 ہزار سنار میاں ایک ہی جھٹکے میں ہڑپ کرگئے۔ اور اگر آپ نے 21 قیراط سونے کا زیور بنوایا یا خریدا ہے تو آپ کو سونا ملا 87 ہزار 500 روپے کا مگر آپ نے ایک لاکھ پیمنٹ کی۔

یوں سنار نے اپنے 12 ہزار 500 روپے کھرے کر لیے اور وہ بھی بیٹھے بٹھائے۔ مگر پکچر ابھی باقی ہے۔ ابھی تو سنار آپ سے پالش کے پیسے بھی کاٹے گا۔ اور وہ ایسے کہ سنار جھوٹ بولے گا کہ ایک تولہ سونے کا زیور بناتے ہوئے ایک ماشہ سونا ضائع ہوگیا۔ یوں آپ کو مزید 10 ہزار روپے کی ٹُھک جائے گی۔

یہ بات پلے باندھ لیں کہ سنار کا کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا بلکہ سنار کی دکان کا کچرا یا کُوڑا بھی لاکھوں میں فروخت ہوتا ہے۔ یوں ایک تولہ سونے کا زیور بنانے پر سنار آپ کو تقریباً 35 ہزار روپے کا ٹیکا لگا دیتا ہے۔ یہ بھی مت بھولیے گا کہ اس مثال میں ہم نے سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ لگائی ہے۔

آئیں اس فراڈ سے بچنے کا طریقہ جانتے ہیں۔ اگر آپ نے زیور بیچنا ہو تو سب سے پہلے کوئی قابلِ اعتماد سنار ڈھونڈیں۔ ویسے یہ بہت مشکل کام ہے۔ خیر، اگر مل جائے تو اسے کہیں کہ اس کی ڈلی بنا دے۔ یعنی تمام ملاوٹ نکال کر اسے 24 قیراط سونا بنا دے۔ پھر اس خالص سونے کو اُس دن کے سرکاری ریٹ پر بیچ دیں۔ اور اگر زیور بنوانا ہو تو پہلے سنار سے طے کر لیں کہ زیور 21 قیراط کا بنایا جائے گا، 18 یا پھر 15 قیراط کا۔ وہ جتنے قیراط کا زیور بنا کر دے اسے پیسے بھی اتنے ہی قیراط کے دیں، 24 قیراط کے ہرگز نہیں۔

ساتھ ساتھ اسے یہ بھی بتا دیں کہ آپ اسے چیک کرائیں گے کہ یہ کتنے قیراط کا ہے۔ اور صرف دھمکی ہی نہیں دینی بلکہ زیور فوراً کسی مشین سے چیک بھی کرائیں تاکہ کوئی شک باقی رہے اور نہ ہی دھوکا۔ اور اب کہانی سنار کی مزدوری کی۔ سنار آپ کی ریکویسٹ پر 2 ہزار سے 4 ہزار تک مزدوری چھوڑ دیتا ہے۔ یہ ہوتا ہے آپ پر احسان۔ وہ کہتا ہے پرانے تعلق کی وجہ سے مزدوری چھوڑ رہا ہے یا آپ اسے اچھے لگے، اس لیے یہ رعایت دے رہا ہے۔ دراصل کمائی تو وہ آپ سے پہلے ہی کرچکا۔ بس مزدوری چھوڑ کر وہ آپ کو ایک اور جال میں پھنسا لیتا ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ دوبارہ بھی اسی سنار سے لُٹیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں