سعودی عرب میں صدیوں پرانے مٹی کے محلات

ریاض: (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے نواح میں ایک ایسا علاقہ موجود ہے جہاں صدیوں پرانے بنائے گئے مٹی کے محلات آج بھی اپنی پوری شان وشوکت کےساتھ موجود ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدیوں پہلے اس علاقے میں تاریخی آل حنیش خاندان آباد تھا اور یہ محلات اور مکانات ان کی ہی ملکیت تھے۔ یہ عمارات اپنے منفرد طرز تعمیر کی بدولت ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ یہ اس علاقے کے ورثے کی مجسم علامت ہیں جو نجدی طرز تعمیر کا زندہ ثبوت ہیں۔

سعودی عرب کے فوٹو گرافر عبدالالہ الفارس نے ان عمارتوں کے تاریخی حسن کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے۔ سیرو سیاحت اور تاریخی ورثے میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے یہ غیر معمولی اہمیت اور دلچسپی کا مقام ہے۔

عبدالالہ الفارس نے کہا کہ میں ان مقامات کو دستاویزی شکل دینے اور ان مناظر کو دنیا تک پہنچانے کا خواہشمند تھا۔ آل حنیش خاندان کے مٹی کے تاریخی محلات اور عمارتیں ان ہیریٹیج ہاؤسز کے لیے ایک مثالی نمونہ ہیں۔ یہ طرز تعمیر سعودی عرب کے وسطی علاقوں میں پایا جاتا تھا اور اس کی تاریخ دو سو پچاس سال پرانی ہے۔

آل حنیش کی عمارتیں خطے کی نمایاں ترین تاریخی یادگاروں میں سے ہیں اور یہ اب بھی اپنے شہری ورثے کی محفوظ علامت ہیں۔ یہ محلات اپنے لوگوں کی مہمان نوازی کے علاوہ ایک منفرد ورثہ اوراپنے اندر تاریخ کی خوشبورکھتے ہیں۔

آل حنیش کے یہ مکانات قدیم تاریخی یادگاروں اور اس کے ثقافتی ورثے کے قدیم ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شاید جو چیز انہیں ممتاز کرتی ہے وہ اس ورثے میں موجود تنوع ہے۔ اس میں بہت سی یادگاریں اور تعمیراتی عناصر موجودگی ہے جوصدیوں بعد بھی اپنی تفصیلات، طرز تعمیراور تعمیراتی عناصر کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

یہ جگہ بہت سے محلات، تاریخی عمارتوں اور پرانی رہائشی عمارتوں سے بھری ہوئی ہے۔ محلات اور عمارتوں میں کھڑکیوں اور دروازوں کی شاندار طریقے سے سجاوٹ کی گئی ہے۔کھڑکیوں پرنقوش میں خطوط مقطعات، مثلث، دائرے اور مربع کی علامتوں واضح دیکھی جاسکتی ہیں۔ بعض مقامات پر دروازوں اور کھڑکیوں پر پھول اور بوٹے۔ کھجور کے درختوں کی شکل اور انگور کے گچھے بھی بنائےگئے ہیں۔

لکڑی کے دروازوں پر کندہ وراثت کی سجاوٹ تعمیراتی شناخت کی ایک ایسی شکل کا حوالہ دیتی ہے جو کمیونٹی کی ماحولیاتی اور سماجی خصوصیات کی عکاسی کرتی ہے۔ ان عمارتوں کی ایک تاریخی خصوصیات میں ایک ان کی پائیداری بھی ہے جس نے آج تک انہیں قائم ودائم رکھا ہوا ہے۔

مٹی سے بنائے گئے مکانات کی چھتوں کو تنکوں کے ساتھ جوڑا گیا جب کہ چھتوں کے لیے کھجور کے مضبوط تنے استعمال کیے گئے ہیں۔

اس خطے میں مٹی کے قدیم محلات خطے کے پرکشش سیاحتی مراکز میں سے ایک ہیں جوسیاحوں کے لیے قدیم تعمیرات کے فن اور تعمیر میں منفرد شہری انجینئرنگ کے بارے میں جاننے کے لیے ایک نمایاں مقام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں