واٹس ایپ کو یورپ میں بھاری جرمانہ، رازداری پالیسی میں تبدیلی

ڈبلن: (ویب ڈیسک) سماجی رابطوں کی معروف ویب سائٹ واٹس ایپ رواں سال کے آغاز میں لگائے گئے بھاری جرمانے کے بعد اپنی پرائیویسی پالیسی کو بہتر بنا رہا ہے۔ ایک تحقیقات کی بنیاد پر آئرش ڈیٹا پروٹیکشن آفس نے کمپنی پر 255.3 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے اسے کو اپنی پرائیویسی پالیسی کو تبدیل کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پی آر) کی تاریخ میں یہ دوسرا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔ واٹس ایپ نے جرمانے کیخلاف اپیل کی ہے لیکن ساتھ ہی وہ یورپ اور برطانیہ میں پرائیویسی پالیسی میں ترمیم پر کام کر رہے ہیں۔ واٹس ایپ کا اصرار ہے کہ صارفین کے لیے اصل سروس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

واٹس ایپ حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بجائے، ترامیم کا مقصد ہماری موجودہ پالیسی کے بارے میں مزید تفصیل شامل کرنا ہے اور یہ ترامیم صرف یورپی ورژن کی رازداری کی پالیسی میں ظاہر ہوں گی، جو دراصل باقی دنیا میں نافذ ورژن سے مختلف ہے۔

واٹس ایپ نے مزید کہا ہے کہ ہمارے کاموں میں اور نہ ہی صارفین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔ صارفین کو واٹس ایپ کا استعمال جاری رکھنے کے لیے کسی بھی چیز سے اتفاق کرنے یا کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نئی پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہو گی۔

گزشتہ جنوری میں، واٹس ایپ صارفین نے ایپلی کیشن کے استعمال کی شرائط میں ایک اپ ڈیٹ کے بارے میں شکایت کی تھی۔ کچھ کا خیال تھا کہ نئی شرائط پر اتفاق نہ کرنا ان کے اکاؤنٹس بند کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ تاہم واٹس ایپ کو تبدیلیاں ملتوی کرنا پڑیں لیکن صارفین میں پھیلے ہوئے شکوک وشہبات کو درست کرنے میں مہینوں لگے۔ اس الجھن کے درمیان لاکھوں واٹس ایپ صارفین نے دیگر ایپس ڈاؤن لوڈ کرلی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں