پاکستانی نوجوان فری لانسنگ سے کتنے ڈالر کما سکتے ہیں؟

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فری لانسنگ کے شعبے سے وابستہ ہے۔ نوجوانوں کی اس شعبے میں دلچسپی اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے حکومت بھی سرکاری سطح پر تربیت فراہم کر رہی ہے۔ حکومت کا فری لانسنگ سکھانے کا پروگرام کیا ہے اور نوجوان اس سے کیسے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟

اس شعبے سے وابستہ ایک نوجوان نے بتایا کہ اگر میں جاب کر رہا ہوتا تو اتنے پیسے کبھی نہیں کما سکتا تھا، اگر میں اپنی فیلڈ کو دیکھوں تو میں دیگر نوکریوں کے مقابلے میں زیادہ ہی کما رہا ہوں۔ جو بندہ 70 سے 80 فیصد لیکچرز مکمل سنجیدگی سے لے اور گھر جا کر اس کی پریکٹس کرے تو ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ پیسے نہ کما سکے۔

اس نوجوان کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو پاکستان میں فری لانسنگ کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس فیلڈ میں کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے اب حکومت سرکاری سطح پر نوجوانوں کو فری لانسنگ کی تربیت دے رہی ہے۔

ایک نوجوان نے بتایا کہ میں ایک دن فیس بک دیکھ رہا تھا تو میں نے وہاں ای روزگار کا اشتہار دیکھا۔ میں نے اپنی معلومات وہاں درج کر دیں، مجھ سے ان کی ٹیم نے رابطہ کیا، پھر میں نے اپلائی کیا تو میں اس کیلئے اہل قرار دیا گیا، تو اس طرح میری کلاسز شروع ہو گئیں۔

سربراہ فری لانسنگ ونگ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ احمد اسلام نے بتایا کہ اس ای روزگار پروگرام کے تحت ہم پنجاب کے 36 اضلاع میں 45 سینٹرز بنا رہے ہیں، جن میں سے 41 مکمل ہو چکے ہیں۔ ہم نے ابھی تک 35 ہزار نوجوانوں کو تربیت دی ہے جن میں سے 54 فیصد خواتین ہیں جو گھر بیٹھے آن لائن پیسے کما رہی ہیں

انہوں نے اس کا طریقہ کار بتاتے ہوئے کہا کہ تربیت حاصل کرکے کیلئے آپ آن لائن اپلائی کریں گے، اس کیلئے آپ کی عمر 35 سال سے کم اور تعلیم 16 سال ہونی چاہیے۔ جب آپ آن لائن درخواست دے دیتے ہیں تو پھر آُپ کی میرٹ پر شارٹ لسٹنگ کی جاتی ہے۔ ہر ضلع میں دستیاب نشستوں کے حساب سے داخلے کے بعد کلاسوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ جو تین ماہ چلتی ہیں۔

احمد اسلام کا کہنا تھا کہ پاکستان سے فری لانسنگ کی جو سروسز دی جا رہی ہیں وہ زیادہ تر ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ڈیزائننگ کی ہیں، اس کے بعد ویڈیو کا بھی بہت زیادہ کام ہے۔ ہماری ٹریننگ کے دوران طلبہ نے جو پیسے کمائے وہ 385 ملین روپے تھے، یعنی طلبہ نے صرف ٹریننگ کے دوران ہی تقریباً 38 کروڑ روپے کما لئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ہم نے 9 ہزار طلبہ کا سروے کیا، اس میں ان سے ان کا اسٹیٹس اور اپ ڈیٹ پوچھی گئی، تو یہ رقم بڑھ کر ساڑھے 3 ارب ہو چکی تھی۔ یہ کمائی صرف گذشتہ دو تین برس کی ہے۔ اس میں پاکستان سے فری لانسنگ کی جو برآمدات ہیں ان میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔
ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ فری لانسنگ کیلئے پروفائل بنانا اور کلائنٹس ڈھونڈنا مشکل کام ہے کیونکہ اگر بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو اس شعبے میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر پڑوسی ممالک جیسے انڈیا اور بنگلا دیش کے نوجوان بھی شامل ہیں، اس لئے مقابلہ بہت زیادہ ہے کیونکہ جو سروسز ہم 50 ڈالرز میں فراہم کر رہے ہیں وہی دوسرے ممالک صرف 5 یا 10 ڈالر میں دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں