کیا مشہور فٹبالر میراڈونا کو “دل” کے بغیر دفن کیا گیا تھا؟

بیونس آئرس: (ویب ڈیسک) ارجنٹائن میں ڈاکٹر اور صحافی نیلسن کاسترو نے مشہور آنجہانی فٹبالر ڈیاگو میراڈونا کی صحت سے متعلق حیران کن معلومات اور حقائق کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے “میراڈونا کی صحت، حقیقی کہانی” کے نام سے ایک کتاب شائع کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈاکٹر کاسترو نے اپنی کتاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ بعض انتہا پسند مداح میراڈونا کی قبر کے اندر سے ان کا دل نکال لینے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم ایسا نہ ہو سکا کیونکہ ڈاکٹروں نے تدفین سے قبل ہی میراڈونا کا ”دل” نکال لیا تھا کیونکہ یہ ان کی وفات کی صورت حال کی تحقیق کے واسطے بہت اہم تھا۔

ڈاکٹر کاسترو نے یہ خفیہ معلومات میراڈونا کے طبی ریکارڈ سے حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اُن گواہان کی باتیں سنیں جنہوں نے اب تک اعلانیہ بات چیت نہیں کی۔ کاسترو نے مزید بتایا کہ میراڈونا کو دل کے بغیر دفن کیا گیا۔ ان کے دل کا وزن 500 گرام تھا۔ عام طور سے انسانی دل کا وزن 300 گرام ہوتا ہے۔ تاہم میراڈونا کے دل کا حجم بہت بڑا تھا۔

کاسترو کے مطابق میراڈونا خوفناک حد تک ہر نقصان دہ چیز کی لت میں پڑے تھے۔ ان کی جگہ کوئی اور شخص ہوتا تو اس وجہ سے بہت پہلے فوت ہو چکا ہوتا تاہم میراڈونا کا جسم مزاحمت اور مدافعت کی خصوصی صلاحیت رکھتا تھا۔ بدقسمتی سے میراڈونا نے مؤثر علاج کے حصول کی کوشش نہیں کی۔

ادھر میراڈونا کے وکیل میٹاس مورلا یہ سمجھتے ہیں کہ خراب طبی نگہداشت ممکنہ طور پر اس عظیم کھلاڑی کی موت کا سبب بنی۔
ارجنٹائن کی عدلیہ میراڈونا کی وفات کے سلسلے میں 7 افراد کے ساتھ تحقیقات کر رہی ہے۔ اس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا انہوں نے میراڈونا کی زندگی بچانے کے لیے انہیں مطلوبہ نگہداشت فراہم کی تھی یا نہیں۔

اس نوعیت کے مقدمات میں 8 سے 25 برس کی جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔ خیال رہے کہ میراڈونا 25 نومبر 2020ء کو 60 برس کی عمر میں بیونس آئرس میں انتقال کر گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں