سکھ بن کر سکھوں کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم کیسے چلائی گئی؟

لندن: (ویب ڈیسک) سکھ مت کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرنیوالے فرقہ وارانہ ایجنڈے کے حامل جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔ ایک رپورٹ میں 80 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں اب جعلی ہونے کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔

اس مہم کے تحت فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کو ہندو قوم پرستی اور بھارتی حکومت کی طرفداری کے لیے استعمال کیا گیا۔ رپورٹ کے مصنف، بینجمن سٹرک کا خیال ہے کہ اس نیٹ ورک کا مقصد “آزادی، انسانی حقوق اور ان کی اقدار جیسے اہم موضوعات پر سکھوں کے نقطہ نظر کو تبدیل کرنا تھا۔” انڈین حکومت سے اس پر ردعمل جاننے کی کوشش کی گئی لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

اس نیٹ ورک نے ‘ساک پپٹ’ اکاؤنٹس کا استعمال کیا جو جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیں۔ ان میں سکھوں کے نام استعمال کیے گئے تھے۔ ایجنڈے کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے RealSikh# ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

غیر منافع بخش تنظیم سینٹر فار انفارمیشن ریزیلینس (سی آئی آر) کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک میں مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ہی جعلی پروفائل کا استعمال کیا گیا تھا۔ ان اکاؤنٹس کے نام، پروفائل پکچرز اور کور فوٹوز بھی ایک جیسے تھے۔ یہی نہیں ان پروفائلز سے بھی ایسی ہی پوسٹس کی گئیں۔

ان میں سے کئی اکاؤنٹس پر مشہور شخصیات کی تصاویر استعمال کی گئیں، جن میں پنجابی فلموں کی اداکاراؤں کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کسی مشہور شخصیت کی تصویر کا استعمال یہ ثابت نہیں کرتا کہ اکاؤنٹ جعلی ہے۔

لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر پیغامات والی تصاویر، کثرت سے استعمال ہونے والے ہیش ٹیگ، ایک جیسی سوانح عمری کی تفصیل، یہ سب اس بات کے ثبوت کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ اکاؤنٹس جعلی تھے۔

بی بی سی نے آٹھ مشہور شخصیات سے رابطہ کیا جن کی تصاویر استعمال کی گئیں۔ ایک مشہور شخصیت نے اپنے مینیجر کے ذریعے آگاہ کیا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی تصویر کو اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کارروائی کریں گی۔ ایک اور مشہور شخصیت کی انتظامی ٹیم نے کہا کہ اس کے مؤکل کی تصویر ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ استعمال کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں تین متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستان کے مختلف حصوں میں کسان تنظیمیں گذشتہ ایک سال سے ان قوانین کی مخالفت کر رہی تھیں۔

اس نیٹ ورک نے دہائیوں پرانی خالصتان تحریک اور کسانوں کی تحریک کے مسئلے کو نشانہ بنایا ہے جو ایک سال پہلے شروع ہوئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سکھوں کی آزادی سے متعلق کسی بھی خیال کو ان اکاؤنٹس نے انتہا پسندانہ رنگ میں رنگ دیا تھا۔ کسان تحریک کو غیر قانونی قرار دینے کی بھی کوشش کی گئی۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس تحریک کو ’’خالصانی دہشتگردوں‘‘ نے ہائی جیک کر لیا ہے۔

اس سے قبل حکومت ہند میں شامل کچھ وزرا نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ دہشتگرد خالصتانی کسانوں کی تحریک میں شامل ہو گئے ہیں۔ کچھ اکاؤنٹس نے برطانیہ اور کینیڈا میں رہنے والے ہندوستانیوں کو خالصتانی تحریک کو پناہ دینے کے طور پر دکھایا۔

ان اکاؤنٹس کے ہزاروں فالورز تھے، اور نیٹ ورک کی پوسٹس کو حقیقی سوشل میڈیا صارفین نے پسند کیا اور ری ٹویٹ کیا۔ اس کے ساتھ ان کی ٹویٹس کو نیوز ویب سائٹس پر جگہ دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں