ایسا ملک جہاں جیلیں خالی پڑی ہیں!!!

ویب‌ڈیسک: کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ پاکستان میں قیدیوں کی کمی کی وجہ سے جیلیں خالی ہوئی ہیں؟ شاید نہیں، آئیے آپ کو ایک ایسے ملک کے بارے میں بتاتے ہیں جہاں قیدیوں کی کمی کے باعث جیلیں خالی پڑی ہیں۔ نیدرلینڈز کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ ہر کوئی اپنی زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر یہاں سفر کرنے کا خواب دیکھتا ہے۔ لیکن آج کل یہ ملک اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دیگر وجوہات کی وجہ سے بھی لوگوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ جہاں دیگر ممالک اپنے جرائم کی شرح سے پریشان ہیں وہیں ہالینڈ میں جرائم کی شرح اتنی تیزی سے گر گئی ہے کہ یہاں کی جیلیں خالی پڑی ہیں۔

ہالینڈ میں جیلوں کو بند کرنے کا عمل 2013 سے جاری ہے۔ سال 2019 میں بھی یہاں کچھ جیلیں بند کی گئیں۔ کچھ جیلوں کو پناہ گزینوں کے لیے مستقل رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ قیدیوں کے ساتھ رویے پر مبنی ڈچ نظام کو پورے یورپ میں سراہا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دیگر ممالک کے لیے ایک بڑی مثال ہے۔ یہاں نہ صرف جرائم کی شرح بلکہ مجرموں کے ساتھ سلوک نے بھی صورتحال کو بدلنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ آخر ہالینڈ میں ایسا کیا ہوا کہ تمام جیلیں بالکل خالی ہوگئیں۔ درحقیقت ڈچ جسٹس سسٹم میں ذہنی صحت کے شکار قیدیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ یہ نظام سزا کی بجائے تفہیم اور روک تھام کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ کوئی بھی شخص جو ملک میں جرم کرتا ہے اسے جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے یا ماہر نفسیات کے ذریعے چلائے جانے والے بحالی پروگرام میں شرکت کرنا پڑتی ہے۔ جن قیدیوں نے کئی سال جیل میں گزارے ہیں، ان کی سزا میں کمی کی گئی۔

ایک رپورٹ کے مطابق ہالینڈ میں قیدیوں کو پڑوسی ملک ناروے سے بھیجا جا رہا ہے تاکہ جیلوں کا نظام چلتا رہے۔ ناروے میں جرائم کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہ نظام 2015 سے شروع ہوا کیونکہ ناروے کے پاس اپنے قیدیوں کو رکھنے کے لیے جگہ کی کمی ہے۔ ہالینڈ میں قیدیوں کو بہت اچھے طریقے سے رکھا جاتا ہے اور ان کے قیدیوں کے کھانے کا بھی مناسب انتظام کیا جاتا ہے۔ وہاں انسانی حقوق کے حوالے سے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں