اسٹیڈیم کے چوکیدار نے محمد رضوان کو تھپڑ کیوں مارا تھا؟

قومی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز محمد رضوان کا کہنا ہے کہ پہلی بار جب کرکٹ اسٹیڈیم دیکھنے گیا تو گراؤنڈ مین نے تھپڑ مار کر واپس بھگادیا۔

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان محمد رضوان کا ایک انٹریو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میں وہ اپنی نجی زندگی سے متعلق کھل کر گفتگو کرتے دکھائی دے رہے ہیں، اس دوران رضوان نے کرکٹر بننے سے پہلے کی چند دلچسپ باتیں بھی اپنے مداحوں سے شیئر کیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کا ایک انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں انہوں نے کچھ دلچسپ باتیں کیں۔

رواں سال ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز محمد رضوان نے کہا کہ میرا تعلق بڑے گھرانے سے نہیں اور یہ سب ہی جانتے ہیں تاہم یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میرے پاس ابتدا میں کرکٹ کھیلنے کا سامان نہیں ہوتا تھا۔

محمد رضوان نے بتایا کہ ہمارے گھر میں ٹیلی ویژن بھی موجود نہیں تھا تاہم کرکٹ سے میرا لگاو دیکھ کر میرے دادا نے مجھے ایک ٹی وی خرید کردیا تاکہ میں میچ دیکھ سکوں، بعد میں وہی ٹی وی بیچ کر اپنی زندگی کا پہلا بلا خریدا۔

قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز نے کہا کہ مجھے پشاور کا کرکٹ اسٹیڈیم دیکھنے کا شوق پیدا ہوا تو وہ دیکھنے گیا جو مجھے پہلی بار نہیں ملا، اس وقت چھوٹا سا گیٹ تھا ، بڑی بڑی دیواریں تھیں، میں واپس آگیا لیکن تسلی نہیں ہوئی، اگلی بار دوستوں کے ساتھ گیا۔

رضوان نے بتایا کہ جیسے ہی گیٹ میں داخل ہوا تو وہاں موجود گراؤنڈ مین نے پوچھا یہاں کیا کررہے ہو، جس پر میں نے جواب دیا کہ گراؤنڈ دیکھنے آیا ہوں، اس نے مجھے تھپڑ رسید کردیا اور اس تھپڑ پر دوست آج بھی مجھے تنگ کرتے ہیں اور اگر آج وہ گراؤنڈ مین میرے سامنے آیا تو میں اس کو پہچان لوں گا۔

محمد رضوان کا مزید کہنا تھا کہ اگر وہ مجھے کسی دن مل گیا تو میں اسے ضرور جادو کی جھپی دوں گا، لیکن مجھے نہیں پتہ کہ وہ اس وقت کہاں ہوگا البتہ اسے تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔ اپنی کامیابی سے متعلق سوال پر محمد رضوان نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سینے پر جو اسٹار لگا ہے اس پر کوئی داغ نہ آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں