پاکستان کی معاشی کارکردگی کیسی رہی؟ سالانہ رپورٹ جاری

کراچی (پبلک نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے معاشی کارکرگی کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 21 میں معیشت بحال ہوئی ہے۔ ملکی جی ڈی پی نمو 3٫9 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ معاشی سرگرمیوں کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ دس برسوں میں کم ترین رہا۔ کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم ہونے سے زرمبادلہ ذخائر بڑھے ہیں۔ ملکی مالی خسارے میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق سرکاری قرضوں کا جی ڈی پی تناسب بہتر ہوا ہے، مالی سال 21 میں مہنگائی معتدل ہوگئی ہے، رسدی چیلنجز کے سبب مجموعی قیمتوں کی سطح بلند رہی۔ مالی سال میں پالیسی محور نمو پر رہی۔ سال کے دوران مانیٹری پالیسی ٹولز سے سپورٹ دی گئی۔ جی ڈی پی کے پانچ فیصد مساوی پالیسی سپورٹ دی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق صحت، روزگار اور سرمایہ کاری کے لئے ری فنانسنگ فراہم کی گئی۔ شرح سود سوا چھ فیصد کم کیا۔ معاشی بحالی مالی سال 22 میں مذید تیز ہونے کے اندازے ہیں۔ مشینیوں اور درآمدی خام مال میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔ صارف فنانسنگ بڑھنے اور مقامی سیلز کی مضبوط لہرمارکیٹ کی طلب بتا رہی ہے۔

جی ڈی پی نمو مالی سال 22 میں 4 سے 5 فیصد رہنے کے اندازے ہیں۔ کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کا 2 سے 3 فیصد رہنے کے اندازے ہیں۔ خسارے کی فنانسنگ کے لئے ماحول ساز گار ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے کوٹہ 3٫8 ارب ڈالر بڑھا دیا ہے۔ روشن ڈیجیٹل میں بھی ڈالر آرہے ہیں٫ یورو بانڈ بیچ کر بھی پیسہ حاصل کیا ہے۔ مذید قرضوں کا حصول دوطرفہ اور ملٹی لیٹرل ذرائع سے ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں