فورنزک کا عمل کیا ہے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) فورنزک ایسا طریقہ کار ہے جس میں ٹیکنالوجی اور سائنس کی مدد سے جرائم پر تحقیق کی جاتی ہے۔ اس کا ماخذ لاطینی زبان کا لفظ ’فورنسس‘ ہے جس کا مطلب ہے ایک عوام یا کھلی عدالت ہیں۔

فورنزک کی مختلف اقسام اور کئی طرح کی مہارتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں انتھراپالوجی، فزیکل، پیتھالوجی/بیالوجی، اوڈنٹالوجی، جیورسپروڈنس، جنرل، انجینئرنگ سائنسز، ڈیجیٹل اینڈ ملٹی میڈیا سائنسز اور کریمنلسٹکس شامل ہیں۔

جرائم کی تحقیقات کیلئے فورنزک کی جو زیادہ اقسام استعمال کی جاتی ہیں، ان میں ڈیجیٹل فورنزک، فونزک اوڈنٹالوجی، فورنزک ٹاکسیکالوجی اور کمپیوٹر فورنزک شامل ہیں۔ قتل اور دہشتگردی کے زیادہ تر کیسوں میں ڈی این اے بہت لازم ہوتا ہے۔ خون کے نمونے، بالوں کا کیمیائی تجزیہ اور انگلیوں کے نشانات عدالتوں کو مقدمات کا فیصلہ کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ اوڈنٹالوجی فورنزک طریقہ کار سے ہی پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث خود کش بمبار کے دانتوں کے تجزیہ کرکے اس اس کی شناخت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ یہ طبی تجزیہ سکاٹ یارڈ لینڈ نے اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی امریکا اور یورپ کی فورنزک لیبارٹریوں سے کرایا تھا۔

اس کے علاوہ ڈیجیٹل فورنزک یہ تعین کرنے میں مدد دیتا ہے کہ آیا تصویروں میں کسی قسم کی کوئی ایڈیٹنگ تو نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ اس سائنسی علم سے آڈیو ریکارڈنگ کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ آیا مختلف حصے جوڑے گئے ہیں یا یہ بغیر کسی تقطیع کے موجود ہے۔

ڈیجیٹل فورنزک سے یہ بھی ثابت کیا جا سکتا ہے کہ کسی کمپیوٹر یا الیکٹرانکس ڈیوائس سے کوئی اہم فائلیں اڑا دی گئیں ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ ڈیٹا کی بنیاد پر ملزم یا مظلوم کا بھی تعین جبکہ ریموٹ سسٹم اور صارف کا بھی پتا لگایا جا سکتا ہے۔

موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ سوال اہم ہے لاہور میں ایک فورنزک سائنس لیبارٹری قائم ہے۔ اس لیبارٹری سے بڑی بااثر شخصیات کے مقدمات میں تجزیہ کیوں نہیں کرایا جاتا؟ اس لیبارٹری کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔ ملک بھر میں کئی بڑے بڑے کیسز میں اس لیب سے استفادہ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں