بیان حلفی کیسے لیک ہوا، مجھے اس کا علم نہیں: رانا شمیم

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے عدالت عالیہ کے روبرو بیان دیا ہے کہ میں نے جو بیان حلفی ریکارڈ کرایا، وہ سربہمر تھا، اسے کسی کو اشاعت کیلئے نہیں دیا، مجھے علم ہی نہیں کہ وہ کیسے لیک ہوا۔

تفصیل کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔

کیس کی سماعت کے آغاز پر جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم کو روسٹرم پر بلایا اور پوچھا کہ کیا آپ نے تحریری جواب داخل کرایا ہے؟ اس پر رانا شمیم کا کہنا تھا کہ جواب داخل کیوں نہیں ہو سکا،اس بارے میں میرے وکیل آپ کو بتائیں گے، چونکہ میرے بھائی کا چہلم ہے، اس کے بعد سماعت رکھ لی جائے۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ نے آپ کا بیان حلفی عوام تک پہنچا دیا ہے۔ اس پر گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کا کہنا تھا کہ میرا بیان حلفی تو سربمہر تھا، مجھے علم ہی نہیں کہ وہ کیسے لیک ہوا؟ تاہم اس کی اشاعت کے بعد مجھ سے رابطہ ہوا تو میں نے اس کی تصدیق کی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے رانا شمیم سے پچوھا کہ کیا کہ آپ نے بیان حلفی نہیں دیا؟ اس پر انہوں نے کہا کہ میں نے بیان حلفی اشاعت کیلئے نہیں دیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ آپ نے لندن جا کر حلف نامہ کسی مقصد کیلئے دیا؟ عدالت آپ کو پانچ دن کا وقت دے رہی ہے، آپ بتائیں کہ تین سال بعد یہ بیان حلفی کس مقصد کیلئے دیا گیا؟ آپ نے عدالت سے عوام کا اعتماد اٹھانے کی کوشش کی۔ آپ نے جو کچھ بھی کہنا ہے اب اپنے تحریری جواب میں لکھ کر عدالت میں جمع کرائیں۔

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ رانا شمیم کو اصل حلف نامہ پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

اس پر رانا شمیم کا کہنا تھا کہ مجھے تو اس بات کا بھی علم نہیں کہ جو حلف نامہ رپورٹ کیا گیا ہے، وہ کون سا ہے؟ میں پہلے رپورٹ کیا جانے والا بیان حلفی دیکھنا چاہوں گا۔

گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے جواب پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جس شخص نے اپنا حلف نامہ دیا، اسے یاد ہی نہیں کہ اس میں لکھا کیا ہے۔ اگر آپ کو علم نہیں تو پھر یہ حلف نامہ کس نے تیار کروایا ہے؟

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ بات ریکارڈ پر لائی جائے کہ رانا شمیم کو علم ہی نہیں بیان حلفی میں کیا ہے۔ رواں ماہ کی 10 تاریخ (نومبر) کو حلف نامہ دیا گیا لیکن آج کہا جا رہا ہے کہ انہیں پتا نہیں کہ اس میں کیا لکھا ہوا ہے؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کو شوکاز نوٹس کا تحریری جواب بھی جمع کرنا لازم ہوگا۔

عدالت عالیہ نے اٹارنی جنرل کا مطالبہ درست مانتے ہوئے رانا شمیم کو حکم دیا کہ وہ اصل بیان حلفی کے ہمراہ تحریری جواب بھی داخل کرائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں