ٹویٹر سربراہ کا مسلمانوں کے حق میں بیان، پرانا ٹویٹ وائرل

سان فرانسسکو: (ویب ڈیسک) سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر کے نئے سربراہ پیراگ اگروال کو عہدہ سنبھالتے ہی سخت تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا ہے۔ 11 سال قبل مسلمانوں کے حق میں دیا گیا بیان وائرل ہو چکا ہے۔

تفصیل کے مطابق ٹویٹر کا نیا سی ای او بنائے جانے کے اعلان کے ساتھ ہی ہر جگہ پیراگ اگروال کا چرچا ہونے لگا ہے لیکن ان کے بارے میں ایک مختلف بحث بھی چھڑ گئی ہے۔ جیک ڈورسی نے عہدے سے دستبردار ہونے کے بعد جیسے ہی پیراگ اگروال کے نام کا اعلان کیا تو کچھ لوگوں نے ان کے ایک پرانے ٹویٹ کو ٹریس کرنا شروع کر دیا۔

ٹرولرز نے ان کی دہائی پرانی ٹویٹ کو ٹریس کیا جس میں پراگ اگروال نے مسلمانوں، انتہا پسندوں، گوروں اور نسل پرستی کے بارے میں بات کی تھی۔

پراگ اگروال کے ٹویٹ کو ایک دہائی کے بعد مختلف طریقے سے سمجھا جا رہا ہے، لیکن انہوں نے تب ہی اس ٹویٹ کے حوالے سے وضاحت جاری کی تھی۔ انہوں نے اس ٹویٹ میں لکھا تھا کہ اگر وہ مسلمانوں اور انتہا پسندوں میں فرق نہیں کرنا چاہتے تو میں سفید فاموں اور نسل پرستوں میں فرق کیوں کروں؟

انہوں نے اس ٹویٹ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا یہ بات کامیڈین آصف مانڈوی نے ‘ڈیلی شو’ کے دوران کہی تھی جسے انہوں نے ٹویٹ کیا تھا۔

امریکی ریاست ٹینیسی کی سینیٹر مارشا بلیک برن نے اس پرانی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ یہ وہی ہیں جو آپ کے آن لائن لفظوں گفتگو کو کنٹرول کرنے جا رہے ہیں۔

سراج ہاشمی نامی ایک ٹویٹر صارف نے لکھا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پیراگ اس تصور سے متفق ہیں کہ تمام مسلمان انتہا پسند نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں