اومیکرون کیخلاف کون سی ویکسین کارآمد ہو سکتی ہے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کی نئی قسم ’اومیکرون‘ کو خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں اس سے بچاؤ کیلئے جنوبی افریقا سمیت کئی افریقی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

اومیکرون کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا کورونا وائرس کیلئے تیار کی گئی ویکسینز اس نئے ویریئنٹ سے بھی محفوظ رکھنے میں کامیاب ہونگی یا نہیں؟

نوواویکس

نوواویکس کا کہنا ہے کہ اس نے اومیکرون پر کام شروع کر دیا ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں ویکسین ٹیسٹ اور مینوفیکچرنگ کے لیے تیار ہوگی۔ خیال رہے کہ نوواویکس کی تیار کردہ ویکسین میں کورونا وائرس اصل حالت میں موجود ہے جو کہ بیماری کا باعث بننے کے بجائے قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے نئے ویریئنٹ سے متعلقہ پروٹین پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے جس پر کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔

ایسٹرا زینیکا

کورونا ویکسین بنانے والی کمپنی ‘ایسٹرا زینیکا’ کا کہنا ہے کہ وہ اس نئے ویریئنٹ کے اثرات کا معائنہ کر رہی ہے اور پرامید ہے کہ اس کی تیار کردہ ویکسین اس ویریئنٹ کے خلاف بھی کار آمد ہو گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا نیا ویریئنٹ سامنے آنے پر وہ تحقیق کر رہے ہیں تاکہ پتا لگایا جا سکے کہ ان کی تیار کردہ ویکسین اس ویریئنٹ کے خلاف بھی مفید ہے یا نہیں؟ ایسٹرا زینیکا کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں وہ بوسٹوانا اور اسواتینی میں تحقیق کر رہے ہیں جس سے کمپنی کو حقیقی معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ کمپنی نے زور دیا کہ ان کی ویکسین نے ثابت کیا ہے کہ وہ کرونا کے تمام ویریئنٹس کے خلاف کار آمد ہو گی۔

موڈرنا

کورونا ویکسین بنانے والی ایک اور کمپنی ‘موڈرنا’ کا بھی کہنا ہے کہ وہ نئے ویریئنٹ پر کام کر رہی ہے۔ موڈرنا کی جانب سے قرار دیا گیا ہے کہ اس وقت قوت مدافعت کو بڑھانے کے لیے بوسٹر شاٹ ہی حل ہے۔

فائرز اور بائیواین ٹیک

کورونا ویکسین بنانے والی کمپنی ‘بائیواین ٹیک’ کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقا میں تشخیص کیے جانے والے کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ سے متعلق اگلے دو ہفتوں میں مزید معلومات متوقع ہیں۔ اس کے بعد یہ پتا لگایا جا سکے گا کہ فائزر کے ساتھ مل کر بنائی گئی کورونا ویکسین پر پھر دوبارہ سے کام کرنا پڑے گا یا نہیں؟ فائزر اور بائیواین ٹیک کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت ہوئی تو وہ لگ بھگ 100 دنوں کے دوران نئے ویریئنٹ سے نمٹنے کے لیے ویکسین تیار کر سکیں گے۔ بائیواین ٹیک کے جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ وہ ماہرین کے خدشات سے آگاہ ہیں اور اس نے فوری طور پر نئے ویریئنٹ پر تحقیق شروع کر دی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں انہیں مزید ڈیٹا موصول ہو جائے گا جس سے معلوم ہو گا کہ آیا ان کی ویکسین مذکورہ ویریئنٹ کے خلاف بھی مفید ہے کہ نہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں