امریکا میں اومیکرون کے کیسز، پابندیاں سخت کرنے کا اعلان

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے کیس منظر عام پر آنے کے بعد صدر جوزف بائیڈن نے سفری پابندیوں کو سخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خبریں ہیں کہ اومیکرون کے کیسز دنیا کے 30 ملوں میں سامنے آ چکے ہیں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے بیان میں نئی پالیسی بارے بتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے ابھی لاک ڈائون لگانے کا فیصلہ نہیں کیا تاہم ویکسی نیشن کے قوانین کو تبدیل کیا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست ہوائی، مینیسوٹا، نیویارک، کولاراڈو اور کیلیفورنیا میں اومیکرون کے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ جس کے بعد صدر جوبائیڈن نے ہنگامی بنیادوں پر پابندیوں کو سخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اومیکرون کے بارے میں ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ ماضی میں کورونا وائرس کے تدارک کیلئے تیار کی گئی ویکسینز اس نئی قسم کیلئے بھی کارآمد ہیں یا نہیں۔

امریکا میں اومیکرون کے کیسز سامنے آںے کے بعد جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان کے مطابق بیرون ممالک سفر کرنے کے خواہشمند افراد کو چوبیس گھنٹے پہلے اپنا ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا، ویکسینیٹڈ افراد کو اس میں کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات، بسوں، ٹرینوں اور ہوائی جہازوں میں ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

بائیڈن منصوبے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ عوام کو گھروں میں ہی کورونا کے فری ٹیسٹ فراہم کرے۔

اعدادوشمار کے مطابق اب تک امریکا میں 4 کروڑ سے زیادہ شہری کورونا ویکسین کا بوسٹر شاٹ لگوا چکے ہیں لیکن لگ بھگ 10 کروڑ لوگوں نے ابھی تک اضافی خوراک نہیں لگوائی۔ اس مقصد کیلئے امریکا بھر میں فیملی ویکسی نیشن کلینک قائم کئے جائیں گے تاکہ اس کی شرح کو بڑھایا جا سکے۔

دوسری جانب جرمن حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کورونا سے بچائو کے حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے والے افراد کو عوامی مقامات پر جانے کا داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تفریحی مقامات اور سٹوروں پر شاپنگ کیلئے ویکسی نیشن لازمی ہوگی۔

یہ اہم فیصلہ چانسلر انگیلا میرکل کے زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ خیال رہے کہ جرمنی میں صرف ایک روز میں ستر ہزار سے زائد شہریوں میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں