’پری زاد‘ کی کہانی میں کیااہم موڑ آنیوالے ہیں؟

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر کوئی ڈرامہ سیریل اس وقت ٹاک آف دی ٹاؤن ہے تو وہ پری زاد ہے۔

پری زاد میں احمد علی اکبر اور اشنا شاہ، مشال خان، صبور علی اور عروہ حسین معاون کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈرامہ پری زاد نامی نوجوان کے گرد گھومتا ہے جسے اپنی شکل وصورت کی وجہ سے بارہا مسترد ہونا پڑتا ہے اور مشکلات کا سامنے کرنا پڑتا ہے لیکن وہ پڑھائی میں سبقت لے جاتا ہے اور آخر کار اپنی محنت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ پری زاد نہ صرف اپنی منفرد کہانی بلکہ مضبوط مکالموں، دل کو چھو لینے والی شاعری، اور معاشرے اور اس کے مسائل کے دیانت دارانہ تجزیے کے لیے مشہور ہے۔

احمد علی اکبر کو ناظرین اور ناقدین دونوں کی جانب سے اس کردار کو ادا کرنے پر پذیرائی مل رہی ہے جسے بہت سے لوگوں نے “پیچیدہ اور جذباتی کردار” کہا ہے۔پری زاد کو ناول نگار ہاشم ندیم نے لکھا ہے اور اس کی ہدایت کاری شہزاد کشمیری نے کی ہے۔ ہاشم ندیم کے مقبول سیریلز رقص بسمل اور خدا اور محبت ان کے کریڈٹ پر ہیں۔

پاکستان کے مقبول ترین ڈرامہ سیریل پری زاد کی آخری قسط میں کیا ہونے والا ہے؟ پری زاد کی موت کا ذمہ دار کون ہوگا؟ ان تمام سوالات کے جواب بھی سامنے آ گئے ہیں۔مسلسل ٹرینڈ کرنے والا ڈرامہ پریزاد کیسے شوٹ ہوا؟ کاسٹ کیا تھی؟ ڈرامہ کی قیمت کتنی ہے؟ ان باتوں کا جواب ڈرامے کے ایک کردار کمالی نے دیدیا ہے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے افتخار احمد کمالی نے ڈرامے کی کاسٹ، کمائی اور آخری قسط کے بارے میں سب کچھ بتایا۔

افتخار احمد کا کہنا تھا کہ اس ڈرامے میں ملنے والے کردار کے لیے شروع میں راضی نہیں تھا، تاہم بعد میں اس کردار کے لیے راضی ہوا، میرے پانچ سے سات سین ہیں اس ڈرامے میں لیکن اس نے مجھے بہت زیادہ مقبولیت دی، انہوں نے نوجوانوں کو پری زاد بننے کی بجائے محنت کرنے کا مشورہ دیا. ان کا کہنا تھا کہ پری زاد امیر نہیں ہوا بلکہ اسے ایک سیٹھ اپنی دولت دے گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں