اومیکرون کم خطرناک ہو سکتا ہے، ابتدائی نتائج کی رپورٹ

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا میں کی گئی تحقیق سے حاصل ابتدائی نتائج سے پتا چلا ہے کہ کورونا کی نئی قسم ‘اومیکرون’ اتنی خطرناک نظر نہیں آ رہی تاہم حتمی نتیجہ اخذ کرنے کیلئے مزید معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔

امریکا کے چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے اومیکرون کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائنسدان تگ ودو میں مصروف ہیں تاکہ کورونا کی نئی قسم کے بارے میں پتا چلایا جا سکے۔

انتھونی فاؤچی کا کہنا تھا کہ ابتدائی نتائج تو یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ اتناز زیادہ خطرناک وائرس نہیں ہے۔ لیکن ایسا کہنے میں بھی احتیاط برتنی چاہیے اومیکرون زیادہ بیمار نہیں کرتا یا اس کا اثر ڈیلٹا ویرئینٹ سے کم ہے۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی انتظامیہ افریقی ملکوں سے آنے والے مسافروں کو داخلے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ اومیکرون کے کیس رپورٹ ہونے کے بعد امریکا سمیت دیگر نے بہت سے ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں تاکہ کورونا کی اس نئی قسم کا پھیلائو روکا جا سکے۔

ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ ہم جنوبی افریقا اور دیگر ممالک پر سفری پابندی لگانا اچھا نہیں سمجھتے۔ ہمیں قوی امید ہے کہ کچھ ہی عرصے کے بعد یہ پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔

ادھر امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب تک ایک تہائی ریاستوں میں اومیکرون کے کیسز سامنے آ چکے ہیں لیکن امریکا میں تقریباً 99 فیصد کیس ڈیلٹا ویریئنٹ کے ہیں۔

طبی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ڈیلٹا ویرئینٹ کا پھیلائو روکنے کیلئے جو احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں، ان پر ہی اگر عمل کیا جائے تو اومیکرون پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان میں ایس او پیز پر عملدرآمد، ماسک پہننا اور سب سے ضروری شہریوں کی زیادہ سے زیادہ ویکسی نیشن ہے۔

دوسری جانب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیش (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ اومیکرون اگرچہ اتنا زیادہ خطرناک نہیں لیکن یہ اہم مسئلہ تو ضرور ہے۔ اس کے اب تک جو کیسز سامنے آئے وہ زیادہ شدت والے نہیں لیکن پھر بھی مریضوں کو ہسپتالوں میں لے جانے کی ضرورت ہوگی جبکہ کچھ کو انتہائی نگہداشت میں بھی رکھنا پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں