’ پریانتھا کمارا پر تشدد کرنیوالوں کا مقدمہ نہیں لڑیں گے‘

سیالکوٹ فیکٹری مینجر واقعہ پرصدر و جنرل سیکرٹری کی قیادت میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ کا اجلاس ہوا. اجلاس میں سری لنکن شہری پر تشدد کرنے والے ملزمان کا وکالت نامہ نہ دینے کی قرارداد پیش کی گئی.

صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ خالدقریشی کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ متفقہ طور پر وکلا کی کثیر تعداد نے بھاری اکثریت سے منظور کرلی. سیالکوٹ اس واقعے سے دنیا بھرمیں اسلام اور پاکستان کا امیج خراب ہوا ، سیالکوٹ افسوسناک واقے پر سیالکوٹ کے شہریوں سیمت پوری قوم افسردہ ہے.

ان کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے جس میں تشدد کی کوئی گنجائش ہی نہیں ، مسلمان امن اور محبت کے داعی ہیں، سیالکوٹ واقعے کے تمام ملزمان کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیاجاے اور انہیں نصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اس دلخراش واقعے کے علاوہ بھی تشددکرنے والوں کا کیس نہیں لیا جاے گا.

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس میں آنجہانی سری لنکن شہری پریانتھا کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کی تقریب سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ سیالکوٹ بزنس کمیونٹی نے آنجہانی سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے اہلِ خانہ کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی امداد جمع کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک عدنان کی بہادری پر ہمیں فخر ہے ، ملک عدنان نے سری لنکن شہری کی جان بچانے کی کوشش کی ، ایک با اخلاق شخص پوری فوج ہوتا ہے ، ملک میں رول ماڈل کی بہت ضرورت ہوتی ہے.

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دین اسلام کے نام پر کسی نے ظلم کیا تو اسے نہیں چھوڑیں گے ، مجھے امید ہے کہ ہمارے نوجوان ملک عدنان کو یاد رکھیں گے ، انسانوں کے معاشرے میں کمزور طبقے کی جگہ ہو تی ہے ، جانوروں کے معاشرے میں کمزور کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی . یہ کون سا انصاف ہے کہ آپ نے الزام لگایا اور خود ہی جج بن گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر سارے پاکستان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب آگے ایسا نہیں ہونے دینا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں