چلڈرن ہسپتال میں مردہ قرار دی گئی 4 سال کی بچی زندہ ہوگئی؟

لاہور: (ویب ڈیسک) میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصل آباد کی رہائشی فیملی اپنی بیمار بچی کو علاج کیلئے چلڈرن ہسپتال لائی تھی، تاہم ڈاکٹروں نے دوران علاج اسے مردہ قرار دیدیا، بچی کو غسل دیا جانے لگا تو وہ معجزاتی طور پر زندہ ہو گئی تھی۔

کہا جا رہا تھا کہ لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں زیر علاج یہ بچی جانبر نہ ہو سکی اور خالق حقیقی سے جا ملی۔ ڈاکٹروں نے بچی کی سانسیں چیک کی، دل کی دھڑکن کو دیکھا لیکن جب انھیں یقین ہو گیا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی تو یہ افسوسناک خبر اس کے والدین کو دیدی گئی۔

ریسکیو 1122 حکام کا کہنا تھا کہ اہلخانہ نے غسل کے دوران بچی کی نبض چلتی محسوس کی جس کے بعد بچی کو طبی امداد فراہم کی تو اس کی سانس اور دل کی دھڑکن بحال ہوگئی۔

دوسری جانب خبریں ہیں کہ ریسکیو 1122 کا مردہ قرار دی جانے والی بچی کا زندہ ہونے کا دعویٰ جھوٹا نکلا ہے۔

خبریں ہیں کہ بچی کینسر میں مبتلا تھی، اسے جب چلڈرن اسپتال فیصل آباد منتقل کیا جا رہا تھا بچی اُس وقت زندہ تھی، اس نے وہیں دم توڑا۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لئے ایک سپیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

خیال رہے کہ چلڈرن ہسپتال لاہور سے مردہ قرار دی گئی چار سالہ بچی میرب کے زندہ ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں