ہوائی جہاز میں مرنے والے مسافر کی لاش سے کیسے نمٹا جاتا ہے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) اگر کوئی مسافر جہاز میں سفر کے دوران مر جائے تو کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ ایک آسٹریلوی فلائٹ اٹینڈنٹ نے اپنے تجربات بتائے کہ سفر کے دوران ہوائی جہاز میں مرنے والے شخص سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔

‘دی سن’ کی خبر کے مطابق فلائٹ اٹینڈنٹ برینا ینگ نے ایک انٹریو میں بتایا کہ تمام عملے کے لیے یہ ضروری اور اہم بات یہ ہے کہ سفر کے دوران مرنے والے مسافر کو عزت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مرنے والے مسافر کی سیٹ کو محفوظ کرتے ہیں۔ وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ جب طیارہ زمین پر اترے تو کرائم سین میں کوئی تبدیلی نہ آئے اور موت کی مناسب تفتیش ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ پورا طیارہ اور اس میں بیٹھے مسافر پولیس کی تفتیش کے دائرے میں رہتے ہیں۔ جب تک موقع پر موجود پولیس تفتیش مکمل نہیں کر لیتی، تمام مسافر طیارے میں موجود رہتے ہیں اور انہیں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایسی صورتحال میں لوگوں کو انتظار کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

برینا یکنگ نے کہا کہ اس لیے بعض اوقات ایسے امکانات ہوتے ہیں کہ آپ کچھ لاشوں کے بارے میں سفر کر رہے ہوں اور سفر کے دوران آپ کو اس کا احساس نہ ہو۔ ہر سال ہزاروں لاشیں آسمان پر سفر کرتی ہیں اور اس وقت کسی کو خبر نہیں ہوتی۔ اس بارے میں کسی مسافر کو کچھ نہیں بتایا جاتا۔

فلائٹ اٹینڈنٹ کا کہنا تھا کہ جب کوئی مسافر مرنے والے کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتا ہے تو عجیب صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، ایسا واقعہ ترکی سے روس کے درمیان فضائی سفر کے دوران پیش آیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کی ایک 50 سالہ خاتون سفر شروع کرنے کے 45 منٹ بعد ہی دم توڑ گئی کیونکہ اس وقت ان کے پاس انسولین نہیں تھی۔ یہ سفر ساڑھے تین گھنٹے کا تھا۔ ایسے میں اس کا جسم کمبل سے ڈھکا ہوا تھا لیکن اس کے ساتھ بیٹھے مسافر کے لیے یہ بہت خوفناک تجربہ تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں