دھڑ جڑے بھائیوں سوہنا اور موہنا کی حوصلہ مند کہانی

امرتسر (ویب ڈیسک) جڑواں بھائیوں سوہنا اور موہنا کی کہانی لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔ پیدائش سے جسمانی طور پر جڑے رہنے کے بعد ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ دونوں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ پائیں گے۔ والدین نے بھی انھیں چھوڑ دیا تھا۔ لیکن ان دونوں‌نے اپنی پڑھائی کے‌ذریعے دوسروں‌کیلئے مثال قائم کر دی ہے.

ان کی پرورش امرتسر کی ایک این جی او نے کی، وہیں سے پڑھ لکھ کر یہ دونوں جوان ہوئے۔ ان میں سے ایک کو نوکری مل گئی ہے جس کی مدد سے اب دونوں اپنا خیال رکھ سکیں گے۔

انڈین میڈیا کے مطابق سوہنا کو پنجاب سٹیٹ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (PSPCL) میں نوکری مل گئی ہے۔ موہنا ملازمت کے دوران اس کے ساتھ رہے گا۔ دونوں ڈینٹل کالج کے قریب پاور پلانٹ میں ریگولر ٹی میٹ (مینٹیننس اسٹاف) کے طور پر کام کریں گے۔ انہیں 11 دسمبر 2021ء کو تقرری کا خط دیا گیا تھا۔

سوہنا کو ہر ماہ 20 ہزار روپے تنخواہ ملے گی۔ دونوں نے اس سال جولائی میں اپنا الیکٹریکل ڈپلومہ مکمل کیا، پھر انہوں نے کمپنی میں جونیئر انجینئر کے عہدے پر بھرتی کے لیے درخواست دی۔ کمپنی الجھن میں تھی کہ کس کو نوکری دی جائے، کیونکہ دونوں کے پاس ڈپلومہ ہے اور دونوں میں ایک جیسی مہارت ہے۔

کمپنی انتظامیہ نے حتمی فیصلہ کرتے ہوئے سوہنا کی خدمات حاصل کیں۔ نوکری ملنے کے بعد سوہنا نے بتایا کہ سابق سی ایم کیپٹن امریندر سنگھ نے نوکری دینے کا یقین دلایا تھا۔ پی ایس پی سی ایل کے چیف منیجنگ ڈائریکٹر نے درخواست فارم آنے کے بعد وزیراعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی سے بات کی۔

تقریباً 5 ماہ کی بات چیت کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہوا اور سوہنا کو اسپیشل کیس کے تحت نوکری مل گئی۔ بتایا گیا ہے کہ سوہنا کو کمپنی میں 2 سال کام کرنے کے بعد ترقی دی جائے گی۔

دونوں کی پیدائش 14 جون 2003ء کو دہلی کے سوچیتا کرپلانی ہسپتال میں ہوئی تھی، لیکن بدقسمت والدین نے ان کی پرورش کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ والدین کے انکار کے بعد امرتسر میں واقع پنگل واڑہ نے دونوں کی پرورش کی ذمہ داری لی۔

پیدائش کے بعد ڈاکٹر نے کہا تھا کہ دونوں زیادہ دن زندہ نہیں رہیں گے۔ لیکن بہت سی مشکلات سے لڑتے ہوئے دونوں بالغ ہو گئے۔ دونوں سینے کے نچلے حصے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، سر، سینہ، دل، پھیپھڑے اور ریڑھ کی ہڈی مختلف ہیں، لیکن جسم کے باقی تمام حصے ایک جیسے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی مدد سے کام کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں