”سب کو کہیں گے گرتی دیوار کو ایک دھکا اور دو “

لاہور (پبلک نیوز) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا تھا کسی انتخاب بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ ڈسکہ انتخابات میں دھاندلی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سب کو کہیں گے گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو۔ تحریک عدم اعتماد کی بات سینیٹ انتخابات کے بعد ہو گی۔

پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے حکومت کو ایکسپوز کیا ہے۔ ملک میں پیغام گیا کہ عوام پی ڈی ایم کے ساتھ ہے۔ ہم چاہتے ہیں ملک کے فیصلے پارلیمان میں ہوں۔ تین سال بعد حکومت کو اپنے اراکین کی یاد آ گئی ہے۔ حکومت کو سینیٹ انتخابات سے قبل اتحادیوں کی بھی یاد آ گئی۔

انھوں نے کہا کہ ہم کم تعداد کے ساتھ حکومت کو انتخابات میں ٹف ٹائم دیں گے۔ یوسف رضا گیلانی سینیٹ انتخاب میں کامیاب ہوں گے۔ مارچ کے آخر میں مارچ بھی ہو گا۔ تمام اپوزیشن جماعتیں سینیٹ انتخابات کے بعد بھی ساتھ رہیں گی۔ ہم سب کے مفاد میں ہے کہ جمہوریت چلے۔ ہم چاہتے ہیں پارلیمان ملک کے مسائل حل کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ووٹرز نے دیکھنا کہ جمہوری امیدوار کو جتوانا ہے یا پی ٹی آئی ایم ایف کو۔ ووٹرز کا امتحان ہے جمہوریت چاہتے ہیں یا ٹیکنوکریٹس۔ ہم چاہتے ہیں حکومت تبدیل ہو تو وہ جمہوری طریقے سے ہو۔ ہم چاہتے ہیں ادارے غیرجانبدار رہیں، اسی میں ملکی ترقی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے کبھی کسی ادارے سے مدد نہیں مانگی۔ ہم نااہل حکومت کو گھر بھیج کر عوامی حکومت لائیں گے۔ میثاق جمہوریت کی کسی شق کو غلط تشریح آئین کے برعکس ہو گی۔ حکومت کبھی الیکشن کمیشن پر اور کبھی سپریم کورٹ کے کندھے پر بندوق رکھتی ہے۔ ہم سیاسی لڑائی کریں گے، پر صورتحال کا مقابلہ کریں گے۔

پی پی سربراہ کا کہنا تھا کہ خفیہ رائے شماری کو آپ کہیں چیلنج نہیں کر سکتے۔ ملک میں غیر جمہوری اقدام ہوا تو ذمہ دار بھی غیر جمہوری قوتیں ہوں گی۔ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کسی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں