سب سے موثر ٹپس، بجلی کا بل نہ ہونے کے برابر ہو جائے گا

لاہور: (ویب ڈیسک) ہر گھر میں بلب، پنکھے، کولر، اے سی سے لے کر مائیکرو ویو، فریج، ہیٹر اور گیزر جیسی اشیاء ہوتی ہیں۔ اب ہم آپ کو جو ٹپس بتانے جا رہے ہیں اس سے آپ کے گھر میں بجلی کی کھپت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

تفصیل کے مطباق ہر حکومت انتخابات میں سستی بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے لیکن پھر بھی عوام کو ہمیشہ یہ شکایت رہتی ہے کہ ان کا بجلی کا بل زیادہ ہے۔ بجلی کی کھپت اور اس پر خرچ ہونے والی رقم ہر شخص کی آمدنی کو متاثر کرتی ہے۔

ایسے میں ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کا بجلی کا بل کم ہو تاکہ بچت بڑھ سکے۔ ایسے میں ہم آپ کو کچھ ایسے ٹوٹکے بتانے جا رہے ہیں جن کے ذریعے آپ بغیر کسی سہولت کے ہر ماہ اپنے بجلی کے بل کو کم کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے تو آپ اپنے ریفریجریٹر کا درجہ حرارت چند ڈگری بڑھا کر بجلی کی کھپت کو کم کر سکتے ہیں۔ تازہ کھانے کے لیے 36-38 ڈگری فارن ہائیٹ کا درجہ حرارت کافی ہے۔ عام طور پر فریج کا درجہ حرارت ضرورت سے 5-6 ڈگری کم رکھنے کے لیے پروگرام کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فریزر کو سیٹ کرنے کا معیار صفر سے 5 ڈگری فارن ہائیٹ مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ فریج اور فریزر کو ہمیشہ بھرا رکھنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے سامان کو ٹھنڈا کرنے میں کم توانائی خرچ ہوگی۔ اس کے ذریعے آپ کم توانائی کے استعمال کے ساتھ فریج کو زیادہ دیر تک ٹھنڈا رکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فریج خریدتے وقت انرجی سیور کی صلاحیت کو بھی ذہن میں رکھیں۔

اپنی واشنگ مشین کو وقت پر صاف رکھیں تاکہ ڈرائر تیز رفتاری سے چلے اور کپڑے دھونے میں کم وقت لگے۔ رات کا وقت کپڑے دھونے کے لیے زیادہ موزوں ہے کیونکہ دن کے اوقات میں توانائی کا خرچ زیادہ ہوتا ہے۔ کپڑوں کو ٹھنڈے پانی میں دھونا ہمیشہ بہتر رہے گا، ایسا کرنے سے واشر کا درجہ حرارت سیٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور کپڑے جلدی صاف ہو جائیں گے۔

ڈرائر کو صرف بڑے کپڑوں کے لیے استعمال کرنا ہمیشہ درست رہے گا۔ جرابوں، زیر جامے اور رومال جیسے کپڑے کو ڈرائر کے بغیر آسانی سے خشک کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے آپ مشین کو کم وقت میں چلائیں گے اور بجلی کی کھپت کو بھی کم کر سکیں گے۔

اس بات کا پورا خیال رکھیں کہ گھر میں نصب بلب ایل ای ڈی ہیں، اس سے بجلی کی بچت ہوگی۔ عام بلب کے مقابلے ایل ای ڈی بلب بجلی کی کھپت کو 80 فیصد تک کم کر سکتے ہیں۔ گھر کے الیکٹرک بورڈ میں سمارٹ پاور سٹرپ کا استعمال کریں، ایسا کرنے سے آپ کو گھر سے باہر نکلتے وقت ہر سوئچ آف کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور پورے گھر کی بجلی ایک ساتھ منقطع ہوسکتی ہے۔

گرمیوں میں کھڑکی کا شیڈ استعمال کرنے سے آپ کا گھر ٹھنڈا رہے گا اور ٹھنڈک کی ضرورت بھی کم ہوگی۔ اگر باہر سے گرم ہوا اندر نہیں آئے گی تو اے سی یا کولر کے اندر کی فضا کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کم توانائی استعمال کرنی پڑے گی۔ سورج کی تپش سے بچنے کے لیے گھر میں پودے لگانا بھی فائدہ مند ثابت ہوگا اور یہ گھر میں ٹھنڈک رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اگر آپ گھر میں واٹر ہیٹر استعمال کرتے ہیں تو درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا ضروری ہے تاکہ ضرورت کے مطابق اسے سیٹ کیا جاسکے۔ گھر میں رکھی اشیاء کو ایڈجسٹ کرکے بھی بجلی کی بچت کی جاسکتی ہے۔ گھر میں بستر اور صوفے کو براہ راست اے سی کے نیچے نہ رکھیں اور ہوا کو پورے گھر میں بہنے دیں۔ اس سے آپ کے AC پر کم بوجھ پڑے گا اور گھر کو ٹھنڈا کرنے کا عمل تیزی سے کیا جا سکتا ہے۔ گھر میں فرنیچر کو اس طرح لگائیں کہ ہوا کے بہاؤ میں رکاوٹ نہ آئے۔

گھر کے باہر سولر پینل لگا کر بھی بجلی کی بچت کی جا سکتی ہے۔ باہر کی روشنی یا لیمپ کو سولر پینل سے جوڑیں تاکہ دن میں چارج ہونے کے بعد اسے رات کو استعمال کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ موشن سینس سولر لائٹ بھی اس کام میں مددگار ثابت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں