بندروں نے بدلہ لینے کیلئے کتوں کے 200 بچے مار ڈالے، حقیقت کیا ہے؟

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست مہاراشٹر میں مراٹھواڑہ کی تحصیل ماجلگاؤں کا لاول گاؤں گذشتہ ایک ہفتے سے پوری دنیا میں زیر بحث ہے۔ اس بحث کی وجہ یہاں بندروں اور کتوں کے درمیان جھگڑے کی خبریں ہیں۔

اس خبر کے حوالے سے میڈیا میں کئی طرح کے دعوے کئے گئے کہ بندروں نے کتوں کے 200 کتے مارے ہیں۔ لاول مراٹھواڑہ کے بیڈ ضلع کی تحصیل ماجلگاؤں سے صرف پانچ سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں ہے۔

لاول گاؤں کے لوگوں کے مطابق کتوں اور بندروں کی یہ لڑائی ستمبر کے مہینے میں شروع ہوئی، جب دو بندر یہاں آئے۔ بندروں کے آنے کے بعد گاؤں میں عجیب وغریب واقعات دیکھنے کو ملے۔

یہ بندر کتے کے بچوں کو اٹھا کر درختوں یا اونچے گھروں تک لے جاتے تھے۔ پہلے تو گاؤں والوں کو زیادہ سمجھ نہیں آئی۔ لیکن واقعات میں آئے روز اضافہ ہوتا رہا۔ جس نے لوگوں میں خوف وہراس پھیلا دیا۔

گاؤں والوں نے بتایا کہ آخرکار انہوں نے میڈیا کا سہارا لیا اور میڈیا میں تشہیر اور بحث کے بعد فوری کارروائی کی گئی۔ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ نے بندروں کو پکڑنے کے لیے ناگپور میں اپنی ٹیم سے رابطہ کیا اور انہیں بلایا گیا۔

اس کے بعد 19 دسمبر کو ناگپور کی ٹیم نے جال بچھا کر بندروں کو پکڑا۔ اس مقصد کیلئے ایک کتے کو پنجرے میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد انھیں جنگل میں ان کے آبائی مسکن میں چھوڑ دیا گیا۔

فاریسٹ حکام نے بندروں کی جانب سے کتوں کے بچوں کو اٹھانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کتے کے بالوں میں چھوٹی چھوٹی جوئیں اور پسو ہوتے ہیں جنھیں بندر کھاتے ہیں، اسی لئے وہ کتے کے بچوں کو اٹھاتے ہیں تاکہ یہ کیڑے مکوڑے کھا سکیں۔

ان کا کہنا تھا چونکہ بڑے کتے آسانی سے بندروں کی گرفت میں نہیں آسکتے لیکن ان کے بچے آسانی سے پکڑے جاتے ہیں اور خود کو بچا بھی نہیں سکتے۔

جوئیں، پسو، بندر کھانے کے بعد کتے کے بچوں کو درختوں یا گھروں کی چھتوں پر چھوڑ دیتے ہیں، جہاں دو تین دن تک خوراک یا پانی کی کمی سے کتے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

کتے کے بچے اتنی اونچائی سے نیچے نہیں آسکتے اور کچھ کتے نیچے اترنے کی کوشش میں مر گئے ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں