سائنسدانوں کو اومیکرون ویرئنٹ کا توڑ مل گیا

پوری دنیا میں کورونا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے۔ حالات سے نمٹنے کے لیے ایک بار پھر پابندیوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ دریں اثناء اومیکرون کے خلاف ایسی بڑی خبر سامنے آ گئی ہے جس سے آپ راحت محسوس کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایسی اینٹی باڈیز کی نشاندہی کی ہے جو اومیکرون سمیت کورونا کی تمام اقسام کو بے اثر کر سکتی ہیں۔ یہ اینٹی باڈیز کورونا وائرس کے ان حصوں کو نشانہ بناتے ہیں، جن میں میوٹیشن (جین میں تبدیلی) کے دوران بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیوڈ ویزلر نے اس بارے میں بہت اچھی معلومات دی ہیں۔ پروفیسر ڈیوڈ ویزلر نے کہا کہ کورونا وائرس کے نوکیلے حصے کو سپائیک پروٹین کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے یہ انسانی خلیوں میں داخل ہو کر انفیکشن پھیلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے اسپائک پروٹین کے مخصوص حصے کو نشانہ بنانے والے اینٹی باڈیز کی نشوونما پر توجہ دے کر اس وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

پروفیسر ویسلر نے کہا کہ بوسٹر کی خوراک لینا جسم میں اینٹی باڈیز بڑھانے کے لیے ایک اچھا قدم ہو سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے ساتھ اپنی بات واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں ملیں ان میں اینٹی باڈیز کی سرگرمیاں 5 گنا کم دیکھی گئیں۔ ایک ہی وقت میں، ان لوگوں میں اینٹی باڈی کی سرگرمی میں صرف 4 گنا کم سرگرمی پائی گئی جنہوں نے خوراک کے ساتھ ساتھ بوسٹر کی خوراک بھی لی۔ یعنی بوسٹر ڈوز لینے سے اینٹی باڈی مضبوط ہو جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں