اومیکرون کا خطرہ: ڈبلیو ایچ او کا 70 فیصد ویکسین مکمل کرنے پر زور

جینوا: (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اومیکرون کیسز میں اضافے کے باعث تمام ممالک پر 70 فیصد ویکسین کوریج پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ تمام ممالک کو جلد از جلد کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مدد فراہم کی جائے۔

اومیکرون ویرینٹ کے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت کے ایک سینئر ماہر وبائی امراض ڈاکٹر ماریا وان نے کہا کہ پوری دنیا اس وبا کی شدت کو برداشت نہیں کر سکتی لہذا ہمیں لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کے لئے جلد بہترین اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پوری دنیا کسی بھی قسم کے وائرس کے ساتھ نمٹنے کی حالت میں نہیں ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ 128 ممالک نے اطلاع دی کہ انہوں نے اومیکرون کی شناخت کر لی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر عبدی محمود نے صحافیوں کو بتایا کہ ابھی تک یہ بتانے کے لئے کافی اعدادوشمار دستیاب نہیں کہ آیا اومیکرون کی شدت مختلف قسم کے کورونا وائرس سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ لندن اومیکرون کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح 2020ء کے مقابلے میں اب تقریباً 20 فیصد کم تھی، جو کہ ویکسین دستیاب ہونے سے پہلے تھی۔

انہوں نے جاری پیغام میں کہا کہ اگر آپ کو ویکسین لگائی گئی ہے تو آپ محفوظ ہیں، لیکن اگر ویکسین نہیں لگائی گئی یہ اومیکرون آپ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے لہذا ویکسینیشن بہت اہم ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے وبائی امراض کے ماہر نے کہا کہ مطالعے کی بڑھتی ہوئی تعداد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اومیکرون کی قسم زیادہ تر سانس کی اوپری نالی کو متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اومیکرون کے باعث دیگر تناؤ پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں جو شدید نمونیا کا سبب بن سکتے ہیں لیکن اومیکرون کی تشخیص کو ثابت کرنے کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس وقت چیلنج ویکسین نہیں بلکہ سب سے زیادہ کمزور آبادیوں کی ویکسینیشن ہونا سب سے بڑا چیلنج ہے جسے مکمل کرنا نہایت ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں