ہوشیار خبردار! کورونا کے بعد نیا وائرس فلورنا بھی آگیا

تل ابیب: (ویب ڈیسک) کورونا سے نبرد آزما انسانوں کیلئے بری خبر ہے کہ اب ایک نئی قسم کا وائرس سامنے آگیا ہے جسے ”فلورنا” کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدان اس پر تحقیق کیلئے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلورنا کا ابھی تک پہلا کیس اسرائیل میں سامنے آیا ہے۔ اس بیماری کا شکار ہونے والی مریضہ کی عمر 31 سال اور حاملہ ہے۔ اس خاتون پر انفلوئنزا اور کورونا وائرس نے حملہ کیا ہے۔ اس لئے سائنسدانوں نے فلو اور کورونا کے الفاظ کو یکجا کرکے اسے فلورنا کا نام دیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ دنیا کی اولین انسان ہے جسے سب سے پہلے اس بیماری نے جکڑا ہے۔ تاہم ماہرین طب کا کہنا ہے کہ مریضہ میں اس مرض کی معمولی علامات ہیں۔ یہ خاتون ہلکے بخار میں مبتلا ہے۔ اسے مکمل آبزرویشن میں رکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں فلو کی وبا عام ہو رہی ہے۔ ماہرین طب کو خدشہ ہے کہ کہیں کووڈ 19 کی نئی قسم دنیا میں نہ پھیل جائے، اس لئے مزید پھیلائو کو روکنے کیلئے تحقیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ انوکھا کیس منظر عام پر آنے کے بعد بیک وقت کووڈ 19 اور فلو کی وبا کے جنم لینے کا شدید امکان ظاہر کیا جا رہے۔

اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2021ء کے آخر تک اسرائیل میں انفلوئنزا میں مبتلا 2 ہزار کے قریب مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا تھا۔ طبی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فلو کی اس بڑھتی ہوئی لہر کی وجہ سے اس بات کے کافی امکانات موجود ہیں کہ فلورنا کا شکار دیگر افراد بھی موجود ہوں۔

دوسری جانب اومیکرون کے بعد کورونا وائرس کی ایک نئی قسم بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔ اس نئے ویریئنٹ کو B.1.640.2 کا نام دیا گیا ہے جو افریقی ملک کیمرون سے فرانس پہنچا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس میں اومیکرون سے بھی زیادہ 46 میوٹیشنز موجود ہیں۔

اس نئے ویریئنٹ میں سپائیک پروٹین میوٹیشنز N501Y اور E484K بھی موجود ہیں۔ N501Y میوٹیشن الفا ویریئنٹ میں پائی گئی تھی۔ یہ وائرس کو انسانی خلیوں کے ساتھ زیادہ مضبوطی کے ساتھ جڑنے کے قابل بناتا ہے اور زیادہ آسانی کے ساتھ جسم میں پھیلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ نیا ویریئنٹ کورونا وائرس کی ابتدائی شکل SARS-CoV-2 کی نسبت زیادہ متعدی یعنی زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں