ہوٹل مالکان اور مقامی افراد کا مری میں پھنسے سیاحوں کیلئے مفت رہائش کا اعلان

مری میں پھنسے سیاحوں کے مدد کے لیے مقامی افراد بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں،ایسے میں مری کے رہائشی کئی افراد اور ہوٹل مالکان نے مری میں پھنسے سیاحوں کے لیے مفت رہائش اور کھانے کا اعلان کر دیا ہے. اس حوالے سے متعدد افراد کی جانب سے سماجی روابط کی سائٹس پر اعلانات کا سلسلہ جاری ہے.

ہانیہ بتول نامی صارف نے لکھاکہ جو لوگ مری طوفانی برف میں پھنسے ہوئے ہیں روڈ بند ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں یا ان کے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں تو وہ مجھ سے رابطہ کرے ہم ان کو کھانا اور کمرے مفت مہیا کریں گےمزید کسی بھی مشکلات یا پریشانی میں پھنسے حضرات ان نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں ہم آپ کی مدد کریں گے

سوشل میڈیا صارف فیصل کھوکھر کا کہنا تھا کہ اچھی بات یہ ہے کہ مری میں ہلاکتوں کے بعد قوم میں پھر جذبہ دیکھنے کو ملا ہے، حکومت نے تمام سرکاری ریسٹ ہاؤس کھول دئیے ، مقامی رہائشیوں نے اپنی خدمات پیش کر دیں اور ہوٹل مالکان بھی پیچھے نہیں رہے، سیاحوں کو راستے مکمل طور پر نہ کھلنے تک مفت رہائش کی پیش کردی.

دعوت اسلامی کے شعبہ FGRF مری میں انتقال کرنے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت، مری میں پھنسے ہوئے لوگوں اور ان کے اہل خانہ کی مدد کے لئے رضا کارانہ خدمات پیش کر دیں. ہیلپ ڈیسک کا قیام عمل میں آگیا 24/7 کا قیام عمل میں آ گیا. شہری کسی بھی مدد کے لئےان نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں. 2678657 0315 02132792626. دعوت اسلامی نے ہنگامی ریسکیو سینٹر قائم کرکے وہاں کمبل،رہائش گاہ،کھانا وغیرہ سمیت دیگر سہولیات کا بندوبست کر دیا گیا . مری ٹریفک میں پھنسے افراد اس نمبر 03170052619 پر FGRF کے نمائندہ اور کاشف عطاری سے رابطہ کرکے امداد حاصل کرسکتے ہیں.

صحافی سبوخ سید نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ مری کے لوگ بہت اچھے ہیں،ان کے پیسے کمانے کا سیزن ہے لیکن امید ہے کہ مشکل وقت میں وہ یہ احسان کریں گے اور اپنے گھر ، ہوٹل سب کچھ مفت کھول دیں۔ اس موقع پر انسانیت کی خدمت کرنے سے اللہ آپ سے حقیقی طور پر راضی ہوگا ۔ یہ صرف حکومت یا انتظامیہ کی نہیں ، آپ کئ بھی آزمائش کا وقت ہے۔

دوسری جانب گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے گلیات میں تمام ہوٹل انتظامیہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی سیاح کو تب تک ہوٹل سے چیک آوٹ کی اجازت نہ دی جائے جب تک روڈ کلئیر نہ ہو۔ اس دوران ہوٹل میں رہنے والوں کو تمام سروسز مفت دی جائیں گی۔

واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تفریحی مقام مری میں شدید برفباری کے نتیجے میں گاڑیوں میں پھنسے کم از کم 21 سیاح ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری کردہ ہلاک شدگان کی فہرست کے مطابق اب تک مرنے والوں کی تعداد 21 ہے جن میں ایک خاندان کے آٹھ افراد بھی شامل ہیں.

ادھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے مری سانحے پر اظہار افسوس کیا ، ان کا کہنا تھا کہ مری کےرستےمیں سیاحوں کی المناک اموات پرنہایت مضطرب اور دلگرفتہ ہوں۔ضلعی انتظامیہ خاطرخواہ تیار نہ تھی کہ غیرمعمولی برفباری اورموسمی حالات کوملحوظِ خاطر رکھےبغیرلوگوں کی بڑی تعداد میں آمد نے آ لیا۔میں تحقیقات اورایسےسانحات کی روک تھام کیلئےکڑےقواعد لاگوکرنے کےاحکامات صادرکرچکاہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں