سوشل میڈیا پر ’بائیکاٹ مری‘ ٹاپ ٹرینڈ

مری میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ’بائیکاٹ مری‘ کا ٹرینڈ چلا دیا.

ملک بھر سے چھٹیوں میں سیاحت کے لیے ملکہ کوہسار جانے والے اب وہاں حالیہ برفباری کے دوران پھنسنے والے سیاحوں کو درپیش مشکلات کو دیکھتے ہوئے مری کے بائیکاٹ کی مہم چلا رہے ہیں۔

بائیکاٹ کی یہ مہم مری میں سیاحوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ شدید برفباری کے دوران ہوٹل کے کرائے اور دیگر ضروریات زندگی کے منہ مانگے دام وصول کرنے کے باعث سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔

اداکارہ مشی خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ میں یقینی طور پر #boycottmuree کے ٹرینڈ کو سپورٹ کرتی ہوں‌تاکہ وہاں کے اس مافیا کو سبق ملے جس نے وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کا فائدہ اٹھایا۔ مکمل طور پر غیر انسانی اور ظالمانہ اقدام تھا ۔

انور لودھی کا کہنا تھا کہ 2018 میں ہوٹل مالکان اور دکانداروں کی سیاحوں سے بد سلوکی اور اوور چارجنگ پر عوام نے کمپئین چلا کر مری کا بائیکاٹ کیا جس کے بعد وہاں ہوٹلوں اور دکانداروں کا کاروبار متاثر ہوا اور وہ معافیاں مانگنا شروع ہو گئے تھے
لیکن دو سال بعد انہوں نے پھر وہی سفاکیت کا مظاہرہ کیا.. بے حس لوگ

اس دوران کئی صارفین کا کہنا تھا کہ سیاح مری کی بجائے گلگت بلتستان آئیں اپنا پیسہ اور عزت دونوں بچائیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں