نصف صدی سے آگ اُگلتے ’جہنم کے دروازے‘ کی حقیقت کیا ہے؟

اشک آباد: ترکمانستان میں دہکتی آگ کا گڑھا بند کرنے کے لیے احکامات جاری کردیے گئے جسے جہنم کے دروازے کا نام دیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق ترکمانستان کے صدر نے ماہرین کو حکم دیا ہے کہ 50 برس سے جہنم کے دروازے نامی گڑھے میں دہکتی آگ کو بجھانے کا راستہ نکالا جائے۔

واضح رہے کہ ترکمانستان کے صحرائے قراقم کے قلب میں ایک ایسا گڑھا واقع ہے جو نصف صدی سے مسلسل آگ اگل رہا ہے۔ یہ گڑھا مائع گیس کے اخراج کے نتیجے میں تقریباً نصف صدی سے نہیں بجھ سکا ہے۔اس گڑھے کو عالمی سطح پر “دار فازا” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس کا قطر 60 میٹر قطر اور گہرائی 20 میٹر ہے جہاں سے آگ اٹھتی ہے۔

گڑھا قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی ہے۔ وہاں کا صحرا قدرتی گیس اور تیل سے مالا مال ہے۔ اس لیے یہ بنجر خطہ تحقیق اور کھدائی کرنے کا ذریعہ ہے۔یہ جلتا ہوا گڑھا 1971 میں نمودار ہوا جب قدرتی گیس کی تلاش میں اس جگہ ایک کنواں کھودا گیا۔ لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تو یہ گڑھا بن گیا۔ ماہرین ارضیات نے اس سوراخ سے نکلنے والی گیس کو آگ لگانے کا فیصلہ کیا۔ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ آگ لگنے سے گیس جل کر ختم ہوجائے گی اور اس کا بہاؤ رک جائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ اس میں آج بھی آگ جل رہی ہے۔


ہول دنیا بھر سے سیکڑوں سیاحوں کے لیے ایک پرکشش سیاحتی مقام بن گیا ہے۔ 2009 سے اب تک 50,000 سے زیادہ سیاح اس سائٹ کا دورہ کر چکے ہیں۔لیکن حال ہی میں ترکمانستان کے صدرگربنگولی بردی محمدوف نے تیل اور گیس کمپلیکس کے انچارج نائب وزیر اعظم شکیم ابراہمانوف کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران اسے بجھانے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کا حکم دیا۔

بردی مخمیدوف نے کہا کہ اس صورتحال کا ماحول اور آس پاس رہنے والے لوگوں کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں