شہبازشریف نے ثابت کیا وہ شعبدہ باز ہیں، فواد چودھری

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری کا کہنا تھا کہ آج بھی شعبدہ بازی کی گئی، ہر حادثے پر سیاست کی جاتی ہے. ان کے پاس آج بھی کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا.

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے لیڈر جعلی طریقے سے بنائے جاتے ہیں ، تیس سالوں میں یہ بونے سیاستدان بنے، آج چمچے اسمبلی میں، بیٹھے ہوئے تھے، ان بونوں کی حیثیت نہیں ہے بات کرنے کی، عمران خان نے پہلی بار ماحولیات پر بات کی ، ہر آنکھ اشکبار ہے کیا یہ واقعہ ہونے سے روکا جا سکتا تھا .

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ بڑے ہال میں آکر ان کا دل بڑا نہیں ہوا، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان سے لے کر کوئی لیگی وہاں نظر نہیں آیا، صرف تحریک انصاف کے لوگوں نے وہاں اداروں کے ساتھ مل کر ریسکیو کوششیں کیں، انکے دور میں ہر روز واقعات ہوتے تھے ، ماڈل ٹاون کا واقعہ ہوا اور بادشاہ سلامت کو پتہ نہیں تھا، چاہے ماڈل ٹاون ہو یا مری، تمام ترقی انکے اپنے گھروں کے پاس ہوئی.

ان کا کہنا تھا کہ اندرونی سیاحت سے متعلق نیا زاویہ دیا ،ہم جدت لانا چاہتے ہیں ، ہم ان کے بچھائے ہوئے کانٹے صاف کر رہے ہیں ، اگلے سات سال بھی انکا رونا دھونا جاری رہے گااور عمران کی قیادت میں پاکستان ترقی کرے گا.

اس سے قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مری سانحے پر وزیراعظم عمران خان کی ٹوئٹ پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامیہ تیار نہیں تھی تو آپ کس مرض کی دوا ہیں، استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔

قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ مری میں پیش آنے والے سانحے میں 23 افراد کے جاں بحق ہونے پر پورے ایوان کی طرف سے تعزیت کرتا ہوں، وہاں برفباری جاری تھی اور گاڑیوں میں 20 گھنٹے لوگ پھنسے رہے لیکن کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ معصوم بچے، جوان اور بزرگ دم توڑ گئے اور 20 گھنٹے انہیں کسی نے نہیں پوچھا، میں سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ کوئی قدرتی حادثہ تھا یا یا انسانوں کا قتل عام تھا، حقیقت یہ ہے کہ وہاں کوئی انتظام نہیں تھا، ٹریفک پولیس موجود نہیں تھی اور برف ہٹانے کی ذمے دار سی ایم ڈبلیو بھی موجود نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ اپنی جان کی بھیک مانگتے رہے لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، یہ ایک انتظامی اور بدترین نااہلی و نالائقی کا مجرمانہ فعل ہے جس کی کوئی معافی نہیں ہے، جب محکمہ موسمیات نے ان کو خبردار کردیا تھا کہ شدید برفباری ہونے والی ہے تو حکومت نے کیا انتظامات کیے تھے۔

شہباز شریف نے کہا کہ اگر مری میں بے پناہ رش تھا تو مزید سیاحوں کو جانے سے روکنے کے لیے انہوں نے کیا انتظامات کیے، کیا انہوں نے ریڈ الرٹ جاری کیا کیونکہ محکمہ موسمیات کی وارننگ کے بعد اس کی شدید ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع تو نہیں تھا کہ مری میں اتنی برف پڑی ہو یا سیاحوں کا اتنا رش ہو، یہ تو پچھلے دو سال کووڈ کی وجہ سے لوگ مری اور دوسرے پہاڑوں پر نہ جا سکے لیکن اب انہوں نے ملکہ کوہسار کا رخ کیا تو ان کی انتظامی نااہلی سے یہ خوشی کا موقع غم میں بدل گیا جس پر پورا پاکستان اشکبار ہے لیکن ان کے کان پر جں تک نہیں رینگی۔

انہوں نے کہا کہ توئٹ کی جاتی ہے کہ انتظامیہ تیاری نہیں تھی، اگر انتظامیہ تیار نہیں تھی تو آپ کس مرض کی دوا ہیں، استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک وزیر نے بیان دیا کہ معیشت اتنی ترقی کررہی ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں مری جا رہے ہیں اور مہنگے ہوٹل میں رہ رہے ہیں اور جب یہ حادثہ ہوا تو نیرون بانسری بجا رہا تھا، ایک نیرو اسلام آباد میں سویا ہوا تھا اور دوسرا نیرو پنجاب میں انتظامی امور کی آڑ میں بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کرنے میں مصروف تھا، مری میں حادثہ ہو چکا تھا اور ان کو قطعاً علم نہیں تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں