انشاء اللہ بہتر ہوگا، ان ہائوس تبدیلی کے سوال پر آصف زرداری کا جواب

اسلام آباد: (پبلک نیوز) سابق صدر آصف علی زرداری نے ان ہائوس تبدیلی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ انشاء اللہ بہتر ہوگا۔ عوام کے مسائل کا حل ان حکمرانوں‌کے پاس نہیں ہے. میں تو چاہتا تھا کہ یہ حکومت پہلے دن ہی چلی جاتی۔

سابق صدر نے یہ بات احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو ان ہاؤس تبدیلی ہوتی نظر آ رہی ہے؟ اس پر آصف زرداری نے جواب دیا کہ انشاء اللہ بہتر ہوگا۔

ایک اور صحافی نے پوچھا کہ کیا پیپلز پارٹی دوبارہ پی ڈی ایم کا حصہ بننے جا رہی ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے، لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا ہوں۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ یہ حوکومت نامعقول ہے۔ ان سے حکومت نہیں چلائی جا رہی۔ اب یہ بات تاریخ نے بھی ثابت کر دی ہے۔ مولانا فضل الرحمن پہلے بھی مارچ کرتے رہے ہیں۔ جو عوام کے حالات ہیں ان میں حکومت سے کچھ نہیں ہو سکتا۔

دوسری جانب احتساب عدالت نے آصف زرداری کی درخواست ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ انہوں نے نیویارک پراپرٹی کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔

سابق صدر آصف زرداری اپنے وکیل فاروق نائیک کے ہمراہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی۔ فاروق ایچ نائیک کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نیویارک پراپرٹی کیس کی تحقیقات نیب کر رہا ہے۔ نیب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ابھی تک وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کئے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی گرفتار کروا سکتے ہیں۔ وہ انکوائری کے کسی بھی مرحلے پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عدالت میں آنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ کسی کو خطرہ ہوتا ہے تو اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کیلئے عدالت کا رخ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت آصف زرداری کی مستقل ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرے۔ نیب نے جب وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کئے تو درخواست مسترد کی جائے۔ احتساب عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں