گوادر اور گردونواح کے علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

گوادر: (ویب ڈیسک) صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

زلزلے کی شدت اس قدر شدید تھی کہ لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں سے نکل آئے۔ تاہم زلزلے کے نتیجے میں اب تک کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکزگوادرکے ساحل کے قریب زیر سمندر تھا۔ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت پانچ اعشاریہ صفر اور گہرائی 25 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ ہماری زمین کی تہیں 3 بڑی پلیٹوں یوریشین، انڈٰین اور اریبین پر مشتمل ہے۔ جب زمین کی تہوں میں تپش یا گرمی اکھٹی ہونا شروع ہو جاتی ہے تو یہ پلیٹیں سرکتی ہیں اور زمین ہلنا شروع کر دیتی ہے۔ اسی حالت کو زلزلہ کہا جاتا ہے۔

زلزلے ان علاقوں میں زیادہ آتے ہیں جو ان پلیٹس کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کا 2 تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں