’غریب کے پاس 2 وقت کی روٹی نہیں، سرمایہ دار اپنی شادیوں پر2 ،2 ارب خرچ کر دیتے ہیں‘

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج حکومت کے بلائے اجلاس کا کورم ہم نے پورا کیا، آج ثابت ہو گیا کہ اس ایوان کے تقدس کا حق کون ادا کر رہا تھا، آج اختر مینگل کی تقریر سن کر یاد آیا کبھی مشرقی پاکستان کے ہمارے بھائی ایسی تقریریں کرتے تھے، جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو ہم افسوس کرتے رہتے ہیں.

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ گوادر اور ریکوڈک جو بھی ہے بلوچستان کی ملکیت ہے بعد میں وفاق کا حصہ ہے، یہ کیسی تقسیم ہے کہ سوئی میں گیس نہیں لیکن میرے گھر سیالکوٹ میں گیس ہے، انھوں نے صحیح کہا مری پر سب بات کرتے ہیں لیکن بلوچستان پر بات نہیں ہو رہی، جب تک بائیس کروڑ عوام کو ایک پیمانے سے نہیں تولیں گے ملک میں فالٹ لائنز بڑھتی جائیں گی.

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آپ فاٹا والوں کو انکے حقوق کیوں نہیں دیتے ، اگر ایسا سلسلہ جاری رہا تو پھر دیواریں اور چوڑی کرنی پڑیں گی، آئین کا تقاضا ہے تمام ادارے ایک پیج پر ہوں، ٹیکسز بڑھانا علاج نہیں، کرپشن روکی جائے، گندم، چینی کا ڈاکہ روکا جائے، حکومتی بنچز پر صرف ایم کیو ایم اراکین بیٹھے ہیں، کروڑوں خاندان 2 وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے، سرمایہ دار اپنی شادیوں پر2 ،2 ارب خرچ کر دیتے ہیں.

خواجہ آصف نے یہ بھی کہااس ملک میں رہتے ہوئے یہاں کے باشندوں کو اجنبیت کا احساس ہوتا ہے، منی بجٹ آیا ہے جو افسوس کی بات ہے، یہ منی بجٹ نہیں میگا بجٹ ہے، کل وزیراعظم کہہ رہے تھے ساڑھے 3 سال میں بحران حل کیے، ہر بحران کے موجد وزیراعظم عمران خان ہیں، وزیراعظم نے خود کہا احتساب کا ایجنڈا ناکام ہوا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں