’ اگر آپ حکومت میں نہیں رہنا چاہتے تو اپوزیشن کو کہتے ہیں وہ آکر حکومت چلائے‘

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی اجلاس میں گیس کے معاملہ پر حماد اظہر اور پرویز خٹک کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد پرویز خٹک غصے میں اجلاس چھوڑ کر چلے گئے.

گیس کی قلت کے معاملے پر حماد اظہر اور پرویز خٹک میں نوک جھونک ہوئی جس پرویز خٹک نے کہا کہ میں ووٹ نہیں ڈالتا، میں اجلاس سے جا رہا ہوں. اس دوران وزیراعظم نے کہا پرویز خٹک مجھے بلیک میل مت کرو، ووٹ نہیں دینا تو مت دو. وزیراعظم نے کہا میرے کوئی کارخانے نہیں ہیں، مجھے کوئی بلیک میل نہیں کرسکتا ، میں ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں ،نہیں ووٹ دینا تو مت دو، مجھے کوئی حکومت کا شوق نہیں ،میری جنگ ملک کے مفاد کی جنگ ہے. اگر آپ حکومت میں نہیں رہنا چاہتے تو اپوزیشن کو کہتے ہیں وہ آکر حکومت چلائے.

وزیر دفاع پرویز خٹک اجلاس سے اٹھ گئے، بعدازاں وزیراعظم نے انہیں پھر واپس بلا لیا.

ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وزیر دفاع اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے۔ خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے۔ گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں۔ اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے وزیر اعظم عمران خان سے کہا آپ نے غیر منتخب لوگوں کو آس پاس بٹھایا ہوا ہے، میں یہاں سے جا رہا ہوں.انھوں نے مزید کہا حماد اظہر کو گیس اور بجلی کے مسائل کا علم ہی نہیں ہے، اور شوکت ترین مجھے کابینہ میں بھی مطمئن نہیں کر سکا۔

اس حوالے سے پرویز خٹک نے مؤقف پیش کیا ہے کہ ان کی حماد اظہر کے ساتھ کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی ہے، انھوں نے تو اجلاس میں ایک دیرینہ مسئلے (گیس بحران) پر بات کی تھی۔وزیر دفاع نے بتایا کہ میں سیگریٹ پینے گیا تھا، رہی بات تلخ کلامی کی تو اجلاس میں اپنے حق کی بات کی تھی۔

اجلاس کے دوران رکن اسمبلی نور عالم نے پھر سخت سوالات کیے، انکا کہنا تھا کہ کیا اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے سلامتی ادارے تو متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا ہم سلامتی اداروں کے اکاونٹ کی تفصیلات بھی آئی ایم کو دیں گے؟جس پر وزیراعظً نے کہا واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، سلامتی اداروں کا تحفظ ہر صورت یقینی اور پہلی ترجیح ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں