حفیظ جالندھری کی 122ویں سالگرہ

لاہور (پبلک نیوز) ملی، مذہبی اور رومانی شاعری کے امام حفیظ جالندھری کی آج ایک سو بائیسویں سالگرہ مںائی جا رہی ہے۔

حفیظ جالندھری 14 جنوری انیس سو کو پیدا ہوئے۔ حفیظ جالندھری نے اپنی شاعری کے ذریعے جذبوں کو گرمایا۔ شاہنامہ اسلام میں اسلامی تاریخ کے واقعات مذہبی جوش و جذبہ بڑھاتے ہیں۔

ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے

پطرس بخاری کے مطابق حفیظ جالندھری کے قلم کی ایک بے پروا جنبش سے قدرت کی رنگینیاں تصویریں بن بن کر آنکھوں کے سامنے آتی ہیں۔ ایم ڈی تاثیر لکھتے ہیں کہ ساون رت، گھنگور گھٹائوں میں کھیلتی ہوئی بجلی، موروں کی جھنکار، پپیہوں کی پکار، برسات کی ٹھنڈی ہوا، ہوا میں اڑتے ہوئے آنچل ، آنکھوں میں تمنائے دید اور فراق کے آنسو، دل کو انتظار کی دھڑکن یہ ایک مست کیف شاعر کی وہ دنیا ہے جس میں حفیظ گاتا پھرتا ہے۔

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے
اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے

ملک میں جہاں مبینہ کرپشن میں نامزد اعلیٰ سیاسی شخصیات کے ناموں پر تعلیمی ادارے تک قائم ہوگئے وہیں خالق ترانہ پاکستان کے نام پر نہ تو کوئی سڑک ہے ، نہ کوئی پارک اور نہ ہی کوئی تعلیمی ادارہ پاکستان کے قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری اکیس دسمبر انیس سو بیاسی کو 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

حفیظؔ اپنی بولی محبت کی بولی
نہ اردو نہ ہندی نہ ہندوستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں