ذیابیطس میں ٹماٹر کھانا چاہیے یا نہیں؟

لاہور: (ویب ڈیسک) ذیابیطس کے مریضوں کو ٹماٹر کھانا چاہیے یا نہیں؟ بہت سے لوگ اس بارے میں بہت الجھن میں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی بار بغیر سوچے سمجھے چیزیں کھانے سے جسم میں بلڈ شوگر بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ٹماٹر لائکوپین کا بھرپور ذریعہ ہے۔ جس کی وجہ سے انسانی بافتوں میں پائے جانے والے کیروٹینائیڈز بنتے ہیں۔ اس میں طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات بھی ہیں۔ ٹماٹر کا جی آئی انڈیکس کم ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ بلڈ شوگر میں اچانک اضافے کو روکتا ہے۔

ٹماٹر میں پوٹاشیم، وٹامن سی، بیٹا کیروٹین، فلیوونائڈز، فولیٹ اور دیگر وٹامنز ہوتے ہیں۔ روزانہ 200 گرام کچے ٹماٹر کھانے سے بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے۔ اس کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ٹماٹر کھانا فائدہ مند ہے بشرطیکہ اسے کچا کھایا جائے۔

ٹماٹر میں کاربوہائیڈریٹ کم پایا جاتا ہے۔ کاربوہائیڈریٹس، خاص طور پر پروسس شدہ کاربوہائیڈریٹ جلد ہضم ہو جاتے ہیں اور بلڈ شوگر میں اچانک اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ جو جسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹماٹر کا کاربوہائیڈریٹ آہستہ آہستہ ہضم ہوتا ہے جس کی وجہ سے بلڈ شوگر کنٹرول میں رہتی ہے۔

ٹماٹر وٹامن سی کا خزانہ ہیں۔ جس کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہ جسم کو متعدی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ یہ جسم کے زخموں کو بھرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

ٹماٹر وزن کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹماٹر میں کم کیلوریز پائی جاتی ہیں جو کہ وزن کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وزن کو کنٹرول کرنے سے ذیابیطس کا مرض کافی حد تک قابو میں آتا ہے۔

ٹماٹروں میں لائکوپین نامی عنصر پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹماٹر کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ اس عنصر کی وجہ سے دل کو طاقت ملتی ہے اور وہ اپنا کام صحیح طریقے سے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے امراض قلب کا خطرہ خود بخود کم ہو جاتا ہے۔

ٹماٹر میں پوٹاشیم پایا جاتا ہے جو کہ خون کے خلیات کو صحت مند رکھنے میں بہت مددگار ہے۔ دراصل، پوٹاشیم خون کی شریانوں کو پھیلانے میں مدد کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے جسم میں خون کی روانی درست رہتی ہے۔ اس سے جسم فٹ رہتا ہے اور بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں