گلوکارہ میشا شفیع کو لاہور ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

لاہور؛ گلوکارہ میشا شفیع کو لاہور ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا . ہائیکورٹ نے میشا شفیع کے ہتک عزت کے دعوے پر حکم امتناعی کے خلاف درخواست منظور کر لی. جسٹس عاصم حفیظ نے میشا شفیع کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا.

سیشن کورٹ نے میشا شفیع کے ہتک عزت کے دعوے پر کارروائی روک رکھی تھی ، میشا شفیع نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی ، علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب جبکہ میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف دو ارب کا ہتک عزت کا دعوی دائر کیا ہے.

علی ظفر کے دعوے کے ساتھ میشا شفیع کے ہتک عزت دعوے پر بھی سماعت شروع ہو گی. اس سے قبل لاہور کی مقامی عدالت نے اداکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے مقدمے میں پیش نہ ہونے پر ‏میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کردیے تھے۔ ‏
‏ ‏
جوڈیشل مجسٹریٹ نے علی ظفر کے خلاف مہم چلانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران اداکارہ عفت عمر اور ‏علینا غنی سمیت دیگر ملزمان نے پیش ہو کر حاضری لگوائی تاہم مشیا شفیع نے حاضری سے معافی کی درخواست ‏دائر کی جس میں موقف اختیار کیا کہ وہ نجی مصروفیت کے باعث پیش نہیں ہو سکتیں.

عدالت نے میشا شفیع کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کر دی اور ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ‏جاری کر دیے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کارروائی 8 فروری تک ملتوی کردی۔اس سے قبل 4 جنوری 2022 کو ‏ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت دعوی پر سماعت کےد وران علی ظفر کے وکیل ‏نے جرح کرتے ‏ہوئے کہا کہ جیمنگ سیشن کے وقت روم میں کتنے لوگ تھے۔ میشا شفیع نے کہا کمرے میں 10 ‏‏سے 15 لوگ تھے۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ اس واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے ، میشا شفیع نے جواب ‏دیاجی ہاں اسکا ‏کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے حتی کہ میں بھی اس واقعہ کی چشم دید گواہ نہیں ‏ہوں میں نے بھی اسے محسوس ‏کیا۔

علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ آپ نے جیمنگ سیشن کی تعریف میں میسج کیا جس پر میشا ‏شفیع نے کہا کہ ‏علی ظفر نے میری تعریف کی تھی جس پر مروت میں میں نے میسج کیا ۔ میشا ‏شفیع کی علی ظفر سے واٹس ‏ایپ پر کی گئی بات کا پرنٹ عدالت میں پیش کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں