فائیوجی تنازع: امریکا جانے والی کئی پروازیں منسوخ

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) فائیو جی سروس شروع کرنے کے فیصلے کے خلاف کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے امریکا جانے والی اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

ایئر لائنز نے خبردار کیا ہے کہ فائیو جی سروس کے سگنلز ہوائی جہازوں کے نیوی گیشن سسٹم میں مداخلت کر سکتے ہیں۔ ایمریٹس نے مطلع کیا ہے کہ بوسٹن، شکاگو، ڈیلاس، میامی، اورلینڈو، سان فرانسسکو اور سیئٹل کے لیے پروازیں 19 جنوری سے اگلے احکامات تک معطل رہیں گی۔

امریکا کی 10 بڑی ایئر لائنز نے بھی فائیو جی موبائل فون سروس شروع کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے کہ یہ طیاروں کی پرواز میں “بڑی رکاوٹوں” کا باعث بن سکتی ہے۔

دریں اثنا فائیو جی کمپنیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے کچھ ہوائی اڈوں کے ٹاورز پر خدمات میں تاخیر پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ایئر لائنز کو خدشہ ہے کہ فائیوجی سگنلز کا سی بینڈ ہوائی جہاز کے نیوی گیشن سسٹم میں رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہے۔ خاص طور پر خراب موسم کے دوران۔ ایئر لائنز نے پہلے ہی امریکی ایوی ایشن اتھارٹی کو خط لکھ کر اس بارے میں خبردار کر دیا تھا۔

امریکا میں ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ فائیوجی سگنلز کو ہوائی اڈوں سے تقریباً دو میل کے فاصلے تک روکنا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کا ہوا بازی کی صنعت پر بہت برا اثر پڑے گا، جس سے مسافروں، سپلائی چین، ویکسین کی تقسیم اور معیشت متاثر ہوگی۔

ایئر بس اور بوئنگ، دو بڑی طیارہ ساز کمپنیوں نے بھی حال ہی میں اس تشویش کا اظہار کیا تھا۔ جبکہ ڈیلٹا ایئرلائن نے کہا ہے کہ وہ دیگر ایئرلائنز کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ سیکیورٹی کو ٹھیک ہونے تک نئی سروس پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔

ڈیلٹا کے مطابق، “ریڈیو الٹی میٹر ایک اہم ٹیکنالوجی ہے جو ہوائی جہاز کی نقل و حرکت کی ایک رینج کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے اور پائلٹ کو ہوائی جہاز کو محفوظ طریقے سے اڑانے کے لیے درکار معلومات فراہم کرتی ہے۔

امریکی ایوی ایشن ریگولیٹر فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہوائی جہاز کے ریڈیو الٹی میٹر میں فائیوجی کی مداخلت لینڈنگ کے دوران انجن اور بریکنگ سسٹم میں مداخلت کا سبب بن سکتی ہے، جو طیارے کو رن وے پر رکنے سے روک سکتی ہے۔

خیال رہے کہ موبائل کمپنیوں نے فائیو جی ٹیکنالوجی کے نفاذ کے لئے اپنے نیٹ ورکس کو اپ گریڈ کیا ہے اور اس پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے انٹرنیٹ کی رفتار تیز ہوگی اور کنیکٹیویٹی بھی بہتر ہوگی۔

امریکا میں وائرلیس انڈسٹری کے ایک گروپ CTIA نے کہا ہے کہ فائیوجی ٹیکنالوجی محفوظ ہے۔ گروپ نے ایئر لائن انڈسٹری پر حقائق کو مسخ کرنے اور خوف پھیلانے کا الزام بھی لگایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں