جرمنی میں ملازمتوں کے مواقع

برلن: (ویب ڈیسک) یورپ کے سب سے اہم ترقی یافتہ ملک جرمنی کو مختلف شعبوں میں کام کرنے کے لیے سالانہ 4 لاکھ غیر ملکی باصلاحیت ہنرمندوں کی ضرورت ہے.

جرمنی میں ریٹائرمنٹ کی شرح بڑھنے سے ملک میں ہنرمندوں کی کمی پیدا ہو گئی ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لئے جرمنی کو سالانہ چار لاکھ غیر ملکی ہنرمندوں کی ضرورت ہے۔

جرمنی میں لیبر فورس کی قلت کی سنگینی کا اندازہ جرمن اکنامک انسٹیٹیوٹ کی اس تجزیاتی رپورٹ سے بھی ہوتا ہے جس میں رواں سال لیبر فورس میں 3 لاکھ سے زائد افراد کم ہونے کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ لیبر مارکیٹ میں نئی اور جوان فیلڈ فورس آنے کی نسبت بڑی عمر کے کارکن زیادہ ریٹائر ہوں گے۔

میگزین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فرق 2029 میں بڑھ کر ساڑھے 6 لاکھ سے زائد ہوجائے گا، جس سے 2030 میں کام کرنے کی عمر کے لوگوں کی کمی 5 ملین تک ہوجائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کئی دہائیوں کی کم شرح پیدائش اور غیر مساوی ہجرت کے بعد ایک سکڑتی ہوئی لیبر فورس جرمنی کے عوامی پنشن کے نظام کے لیے آبادیاتی ٹائم بم بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

جرمن حکومت کی اتحادی جماعت فری ڈیموکریٹس کے پارلیمانی لیڈر کرسچن ڈیوئر نے ایک بزنس میگزین کو بتایا کہ ملک میں ہنرمندوں کی کمی اس قدر سنگین ہوچکی ہے کہ یہ ہماری معیشت کو ڈرامائی طور پر سست کررہی ہے۔

ڈیوئر نے مزید کہا کہ زائد العمر لیبر کی سنگین صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمارے پاس ایک ہی حل ہے کہ جلد ایک جدید امیگریشن پالیسی بنائیں جس کے تحت ہم بیرونی ممالک سے سالانہ 4لاکھ باصلاحیت ہنرمندوں کو اپنی طرف راغب کریں۔

اس حوالے سے جرمن چانسلر اولف شولز اور انکے اتحادیوں نے یورپی یونین سے باہر دیگر ممالک سے باصلاحیت لوگوں کو جرمنی کی طرف راغب کرنے کے لیے کچھ نکات پر اتفاق کیا ہے اور جرمن کو زیادہ ملازم دوست ملک بنانے کے لیے فی گھنٹہ اجرت کو 12 یورو (13.60 ڈالر) تک بھی بڑھایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں