ٹھٹھہ: تیز ہواؤں کے باعث 3 کشتیاں الٹنے سے 38 ماہی گیر ڈوب گئے

پبلک نیوز: ٹھٹھہ میں کیٹی بندر کے قریب حجامڑو کریک میں 3 کشتیاں تیز ہواؤں کے باعث الٹ گئیں۔ 38 ماہی گیر ڈوب گئے۔

تفصیلات کے مطابق دو کشتیاں الصدیق اور البحریہ ابراہیم حیدری کراچی سے روانہ ہوئی تھیں۔ پہلی کشتی کے 16ماہی گیروں کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والے 4 ماہی گیروں نے لکڑی کے ٹکڑے پر تیر کر اپنی جان بچالی۔ ڈوبنے والی ایک کشتی کے 20 اور دوسری کشتی کے 18ماہی گیر تاحال لاپتہ ہیں۔

ٹھٹھہ میں تیز ہوا کے باعث ایک اور ڈوبنے والی بحیرہ حسن نامی لانچ پر سوار 22 ماہی گیروں کو قریب ہی کھڑی دوسری لانچ والوں نے بچایا۔ ترجمان فشر فوک فورم کے مطابق کراچی میں تیز ہواؤں کے باعث سمندر میں طغیانی ہے، کیٹی بندر پر کشتیوں کے ڈوبنے کا واقعہ گزشتہ شب پیش آیا۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ موسمی پیشگوئی کے باوجود ماہی گیر سمندر میں کیسے گئے؟ کشتیوں کو سمندر میں جانے کی اجازت کس نے دی؟ رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیراعلی نے کہا ٹھٹھہ اور بدین کے سمندری علاقے میں چھوٹے بڑے جزائر ہیں۔ ماہی گیروں نے کہیں پناہ لی ہو گی۔ ایڈمنسٹریٹراور پولیس مل کر ماہی گیروں کوتلاش کر کے واپس لے آئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں