شوکت ترین نے مہنگائی ختم نہ ہونے کا عندیہ دیدیا

اسلام آباد: (پبلک نیوز) وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ملک میں جاری مہنگائی مصنوعی ہے۔ اس کیساتھ ہمارا تجارتی خسارہ بھی بڑھا ہے، ہو سکتا ہے کہ اگلے دو تین ماہ اشیا کی قیمتیں کم نہ ہوں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ حکومت نے 2019ء سے سٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا بلکہ اسے واپس کیا ہے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ 2018ء سے حکومت کو چار بڑے بحرانوں کا سامنا رہا جن میں پہلا بحران 20 ارب کرنٹ اکائونٹ خسارہ، دوسرا کورونا وائرس کی عالمی وبا، تیسرا کموڈی پرائس مینجمنٹ اور چوتھا افغانستان کی صورتحال ہے۔ افغان معاملے پر بطور پڑوسی ہمیں اس کی مدد کرنا پڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مہنگائی مصنوعی ہے، اس کیساتھ ہمارا تجارتی خسارہ بھی بڑھا ہے۔ گروتھ ریٹ سست ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ عین ممکن ہے کہ آئندہ 2 سے تین ماہ کے دوران چیزوں کی قیمتوں میں کوئی کمی نہ ہو۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا کی معاشی مشکل کا اندازہ نہیں کہ کب ختم ہو لیکن جس طرح سے ہم چاہ رہے تھے، ملکی معیشت ویسے ہی چل رہی ہے اور درست سمت میں ہے۔ ہماری برآمدت 25 فیصد تک بڑھی ہیں۔

ملک میں جاری مہنگائی پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقہ اور لوئر مڈل کلاس اس وقت تکلیف میں ہے، ان کی آمدن بڑھانے کیلئے اقدامات کریں گے۔ دو کروڑ خاندانوں کو احساس راشن پروگرام کے تحت اشیا پر سبسڈی دیں گے۔ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت 10 ارب روپے کے قرضے دئیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف بورڈ) کی میٹنگ ہم نے خود کہہ کر 2 فروری تک ملتوی کرائی ہے۔ اسی دوران ہم سٹیٹ بینک کا بل منظور کرا لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں