”مشکل وقت سے نکلنے کیلئے آؤٹ آف دی باکس سوچنا پڑتا ہے“

لاہور(پبلک نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل وقت سے نکلنے کیلئے ملک کو آؤٹ آف دی باکس سوچنا پڑتا ہے۔

لاہور میں سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اب ہر سال ہم پر قرضوں کی قسطیں بڑھتی جا رہی ہیں، دس اندھیرے برسوں میں بہت زیادہ قرضےلیے گئے، ہماری امپورٹ اور ایکسپورٹ میں خسارہ ہو چکا تھا۔

وزیراعظم نے کہا سب سے پہلے آمدنی بڑھانی ہے اور خرچے کم کرنے ہیں، ہر سال ایل این جی منصوبے کے تحت تین سو ملین ڈالرز کی بچت ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بزنس ڈسٹرکٹ منصوبہ پاکستان میں ویلتھ جنریٹ کرے گا، پہلے فیز میں 13 سو ارب جنریٹ ہوں گے۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کوشش ہے جو لوگ ماہانہ کرایہ دیتے ہیں وہ قسطوں پر گھر حاصل کریں، پہلی بار ملکی تاریخ میں کوشش ہو رہی ہے کہ تنخواہ دار کے لیے گھر بنائے جائیں، راوی اربن پراجیکٹ اور اِس منصوبے میں اوورسیز کا بڑا انٹرسٹ ہے، کوشش کر رہے ہیں بینک چھوٹے ملازمین کو قرض دیں، چاہتے ہیں جو لوگ ماہانہ کرایہ دیتے ہیں وہ قسطوں پر گھر حاصل کریں، پاکستانی کی تاریخ میں پہلی بار مزدور طبقے کیلئے گھر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دبئی ہمارے سامنے ہر سال بدلتا گیا،بدقسمتی سے ہم نے پلاننگ نہیں کی، کراچی اور اسلام آباد پھیلتا جا رہا ہے، وقت آئے گا کہ ان کو مینج نہیں کر پائیں گے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان دورہِ لاہور میں آج مختلف اجلاسوں کی صدارت بھی کریں گے۔ وزیر اعظم سے ارکان صوبائی اسمبلی سے ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔ وزیر اعظم کو پنجاب کے حکومتی و انتظامی امور پر بریفنگ دی جائے گی۔ اپنے دورے کے دوران وزیراعظم اہم احکامات بھی جاری کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدہ ہوا ہے، 300 ملین ڈالرز کی بچت ہو گی، مشکل وقت سے نکلنے کے لیے سوچ کو بدلنا ہوتا ہے، وراثت میں ملےمسائل کی وجہ سےمہنگائی میں اضافہ ہوا، لوگ کہتے ہیں پرانی باتیں نہ کریں، خسارہ اتنا تھا دوسرے ممالک سے قرض لینے پڑے، ایک طرف قرضوں کا بوجھ ہے تو دوسری طرف کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے، ہرسال قرضوں کی قسطیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا پاکستان کے بڑے بڑے جنگل ختم ہو گئے، جنگلوں کی زمینوں پر قبضے ہو گئے، تاریخ میں پہلی دفعہ ہم نے درخت لگانے کا سوچا، خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے، اب درخت لگائے جا رہے ہیں، کاٹے نہیں جا رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں